عام مقالاتمقالات حج وعمره

آپ حج کیسے کریں ؟؟؟

 

حج سے نکلنے سے قبل کے آداب :

1 : حلال کمائی کا اہتمام :

ارشاد نبوی ہے : إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًا ۔ اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ ہی چیز کو قبول فرماتا ہے ۔{ صحیح مسلم : 1015 الحدیث }

2 : ماسبق گناہوں سے توبہ اور حقوق العبادسے چھٹکارا ۔

ارشاد باری تعالی ہے : (وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ) ۔النور :31

اے مومنو ” تم سب کے سب اللہ تعالی سے توبہ کرو تا کہ کامیاب ہو جاو ۔

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمَنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا. فَكَانَ يَقُولُ « لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ إِلاَّ عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِى حَرِجَ وَهَلَكَ ».۔

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیلئے روانہ ہوا ، چنانچہ لوگ آپ کے پاس آتے تھے تو جس نے بھی کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلممیں نے طواف سے پہلے سعی کرلی ہے ، یا کوئی کام پہلئے کر لیا ہے یا موخرکردیا ہے تو آپ فرماتے تھے :کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں ، ہاں مگر جو شخص کسی مسلمان کی عزت ریزی کرے {غیبت کرے ، طعن وتشنیع کرے }تو وہی شخص حرج میں پڑا اور ہلاک ہو ۔ {ابوداود :2015 ا ، ابن خزیمہ : 2774}

3 : اچھے ساتھیوں کی تلاش ۔

عَنْ أَبِى سَعِيدٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُصَاحِبْ إِلاَّ مُؤْمِنًا وَلاَ يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلاَّ تَقِىٌّ ».

حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :صرف مومن آدمی کا ساتھ کرو اور تیرا کھانا بھی کوئی متقی آدمی ہی کھائے {الحدیث} سنن ابو داود:4832، سنن الترمذی :2395

4 : نیت صادقہ اوراخلاص ۔

ارشاد باری تعالی ہے (مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لاَ يُبْخَسُونَ()أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ) ھود16,15

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی … یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع

5 : حج کا طریقہ سیکھے ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر حج سے قبل مسجد نبوی میں ایک خطبہ دیا اور حج کے بارے میں ہدایات فرمائی ۔ صفہ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للالبانی ص46

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ ، وَأَمَرَنَا بِالسَّكِينَةِ ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ لِعَلِّي لاَ أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا ۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقعہ پر عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ پر اطمینان وسکون کی کیفیت تھی ،۔۔۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا :مجھ سے اپنے حج وعبادت کا طریقہ سیکھ لو شاید اس سال کے بعد تم لوگوں سے میری ملاقات نہ ہو سکے ،سنن ابن ماجہ :3023

6 : اہل خانہ کو تقوی اور دین داری کی وصیت کرے۔

اور اسکے اوپر کسی کا قرض ہے یا اسکا کسی پر قرض ہے تو اسے لکھ کر رکھ دے ۔

سفر کی ابتدا :

1 : سفر حج سے قبل کی جو بد عات ہمارے یہاں ایجاد ہیں ان سے پر ہیز کریں جیسے حاجیوں کو رخصت کرتے ہوئے جلوس لیکر چلنا ، انھیں پھولوں کا ہار پیش کرنا ، عورتوں کا غیر محرم مردوں کےساتھ حج کیلئے نکلنا ، فرضی نکاح پڑھانا ، حج کے سفر میں انبیاء وصالحین کی قبروں کی زیارت کوشامل کرناوغیرہ ۔

2 : دعائے سفر کا اہتمام جیسے :

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سواری پر قدم رکھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے :« سُبْحَانَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِى سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِى السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِى الأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِى الْمَالِ وَالأَهْلِ ». اور جب سفر سے واپس ہوتے اس دعا کو پڑھتے اورع مزید کہتے : « آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ». صحیح مسلم : 1342

بلندی پر چڑھتے اور بلندی سے اتر تے وقت اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہے

حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو سفر کیلئے رخصت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم تمہیں اللہ تعالی سے ڈرنے اور بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے کی وصیت کرتے ہیں. احمد 2/ص325 ، الترمذی ، ابن ماجہ عن ابی ھریرہ

حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ ہم جب بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نیچے اتر تے توسبحان اللہ کہتے ،

کسی جگہ پرنازل ہونے کی دعا :

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ار شاد فرمایا : « مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. لَمْ يَضُرُّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ».

جو شخص کسی جگہ پر اترے اور یہ دعا پڑھ لے تو اس جگہ جب تک ٹھہرارہے گا کوئی چیز تکلیف نہ دے گی ،مسلم :2708، بروایت خولۃ بنت حکیم

3 : کسی کو اپنا امیر بنا لے ۔

ارشاد نبوی ہے : « إِذَا كَانَ ثَلاَثَةٌ فِى سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ ».

{ابو داود، 2607 بروایت ابوہریرۃ }

جب تین آدمی کسی سفر میں نکلیں تو اپنے میں سے کسی ایک آدمی کو اپنا امیر بنالیں ۔

4 : اپنے ساتھ بعض کتابچے ، کیسٹیں ، اور کچھ مفید چیزیں رکھ لیں ، اہل علم کا ٹلیفون نمبر اپنے ساتھ رکھنا نہ بھولیں ۔

میقات پر ۔

میقات کیا ہے ؟ میقات کے لغوی معنی ہیں کسی عمل کیلئے کوئی متعین جگہ یا وقت معین ،

شرعی اصطلاح کے لحاظ سےمیقات دوطرح کی ہیں [1]میقات زمانی [2]میقات مکانی ،

میقات زمانی یعنی وہ وقت جسمیں حج کا احرام باندھا جاسکتا ہے اور وہ تین مہینے ہیں ۔ شوال ۔ ذی القعدۃ ۔ اور ذی الحجہ کے دس دن ۔

میقات مکانی وہ جگھیں ہیں کہ حج وعمرے کا ارادہ کرنے والے کے لئے وہاں سے آگے بغیر احرام باندھے گزرنا جائز نہیں ہے ۔ خطبنا رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال :مهل أهل المدينة من ذي الحليفة{ابیار علی} ومهل أهل الطريق الأخرى من الجحفة{رابغ}ومهل أهل العراق من ذات عرق{الفریبۃ} ومهل أهل نجد من قرن {السیل }ومهل أهل اليمن من يلملم{السعدیہ} {مسلم واحمد عن جابر ،}فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.

{متفق علیہ عن ابن عباس }

حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : اہل مدینہ کے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ {ابیار علی } ہے دوسرے راستے {شام } سے آنے والوں کے احرام کی جگہ جحفہ {رابغ} ہے ، اہل عراق کے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق{الضریبہ}ہے ، اہل نجد کے احرام باندھنے کی جگہ قرن المنازل {سیل کبیر} ہے اور اہل یمن کے احرام باندھنے کی جگہ یلملم {سعدیہ} ہے ،{صحیح مسلم :1183 الحج} ۔ نیز فرمایا : جو شخص ان جگہوں کے بعد ہے اسکے احرام باندھنے کی جگہ اسکا گھر ہے حتی کہ اہل مکہ اپنے گھر سے احرام باندھیں گے ،

{بخاری :1524 الحج ،مسلم : 1181 الحج }

میقات پر اعمال :

1: غسل کرنا ، سلے ہوئے کبڑوں کو اتاردینااور غیر ضروری بالوں وناخنوں کاکاٹنا ۔

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کیلئے اپنے {سلے ہوئے }کپڑے اتارے اور غسل فر مایا {سنن الترمذی : 830}

{واضح رہے کہ ناخون اور بال وغیرہ کا کاٹنا احرام کیلئے سنت نہیں ہے لیکن چونکہ پہلے زمانے میں حالت احرام میں کئی کئی ہفتوں تک رہنا پڑتا تھا اسلئے علماء نے اسے مستحب کہا ہے لیکن آج کل اسکی ضرورت نہیں ہے ،واللہ اعلم}

2: دوچادروں میں احرام باندھے بہتر ہے کہ سفید ہوں ،

حدیث میں ہے : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَاءَهُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ نے صحابہ کنگھی کیا ، تیل لگا یا ، احرام کےلئے چادر اورتہبند پہنا پھر مدینہ منورہ سے روانہ ہوگئے ۔

{البخاری }

3: خوشبو وغیرہ کا استعمال کرسکتا ہے بشرطیکہ خوشبواحرام کے کپڑوں پر نہ لگائے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے : كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم لإحرامه قبل ان يحرم ولحله قبل ان يطوف بالبيت ۔۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش بو لگا تی تھی آپ کے احرام کیلئے احرام باندھنے سے قبل اور آپ کے حلال ہونے کیلئے طواف افاضہ سے قبل ۔

{صحیح البخاری : 539 الحج }

4: اگر طبعی امور کی شکار عورتیں ہیں تو انکے لئے غسل کرنا سنت ہے ۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں : حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِى بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ « اغْتَسِلِى وَاسْتَثْفِرِى بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِى ».۔{ مسلم } جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابو بکر کو جنم دیا ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوال کرنے کیلئے بھیجا کہ اب ہم کیا کریں ؟ آپ نے فر مایا نہا کر کسی کپڑے کا لنگوٹ کس لو اور احرام باندھ لو ۔

{صحیح مسلم :1281 }

5 : اگر کسی نماز کاوقت ہے تو وہ نمازپڑھے ،ورنہ تحیۃ الوضوء کی نیت سے دورکعت نفل پڑھے ۔

6 : نماز سے فارغ ہونے کے بعد یاسوا ری پر بیٹھ کر احرام میں داخل ہونے کی نیت کرے اور جس قسم کا حج کر نا چاہتا ہے اسکا تلبیہ پکارے۔

میقات سے رخصتی :

خضوع و خشوع اور سکینت ووقار سےتلبیہ پکارتے ہوئے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو اور راستے میں برابر تلبیہ پڑھتا رہے ،

ایک حدیث میں ہے : ما من مسلم يلبي إلا لبى من عن يمينه أو عن شماله من حجر أو شجر أو مدر حتى تنقطع الأرض من هاهنا و هاهنا۔{ التر مذی وابن ماجہ } جب بھی کوئی مسلمان تلبیہ پڑھتا ہے تو اسکے دائیں اور بائیں جو پتھر ، درخت اور مٹی ہوتے ہیں وہ تلبیہ پڑھنا شروع کردیتے ہیں حتی کہ اس طرف اور اس طرف سے زمین کے آخر تک پہنچ جاتے ہیں ۔

{سنن التر مذی ، سنن ابن ماجہ}

ایک اورحدیث میں ہے : أتاني جبريل فأمرني أن آمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإهلال والتلبية۔۔ { سنن ابوداود ، سنن الترمذی } وفی روایۃعند ابن ماجہ عن زید بن خالد}۔۔۔۔فانہامن شعار الحج ۔

میرے پاس حضرت جبریل تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دے دوں کہ وہ تلبیہ پڑھتے وقت اپنی آواز کو بلند کریں کیونکہ یہ حج کا شعار ہے ۔

مکہ میں داخلہ:

1: اگر مکہ میں داخلہ سے قبل رات گزارنے کا موقعہ مل جائے اور میسر ہو تو مکہ مکرمہ داخل ہونے سے قبل غسل کرے ،

جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکا عمل تھا اور وہ بیان کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا ۔ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :یفعل ذلک ۔

{ صحیح بخاری ومسلم }

طواف :

2: سیدھے مسجد حرام جائے ،عام مساجدمیں داخلےکے آداب کو یہاں بھی ملحوظ رکھے ۔

3: مسجد حرام میں داخلے کیلئے کوئی خاص دعا نہیں ہے ، عام مساجد میں داخلے کی دعاہی یہاں پڑھی جائے ۔

بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله اللَّهُمَّ افْتَحْ لِى أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ.

4: حجر اسود کے پاس پہنچ کر تلبیہ بند کر دے اور اضطباع کر لے ، شرط یہ ہے کہ طواف شروع کرنے سے قبل باوضوہو،

5: حجر اسود کو چومنا ، چھونا اور اشارہ کرنا جو بھی ممکن ہو کرے اور بِسْمِ اللهِ اللَّهُ أَكْبَرُ ، کہکر طواف شروع کرے ، {اللہ اکبر }اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،اور بسم اللہ حضرت ابن عمر سے ۔

6: اس طواف کے تین چکروں میں رمل کرے ۔

7: ہر چکر میں رکن یمانی کو چھوئے اور اگر ممکن نہ ہو تو اشارہ کرنے ضرورت نہیں ہے بلکہ ویسے ہی آگے بڑھ جائے ۔

8: رکن یمانی اور حجر اسود کے بیچ میں ۔رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔پڑھے۔

9: ہر چکر کیلئے الگ الگ دعا خاص کرنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ ، اور ائمہ کرام سے ثابت نہیں ہے ۔

10: سات چکر پورے کر لینے کے بعد اپنے کندھے کو ڈھک لے ۔

11: پھر مقام ابراہیم کے پاس جا کر اسکے پیچھے دورکعت نماز پڑھے ، پہلی رکعت میں سورہٴ کافرون اور دوسری میں سورہٴ اخلاص پڑھے

{مسلم /1218}۔

12: پھر حجر اسود کا استلام کرے اور اگر ممکن نہ ہو تو صرف اشارہ کرکے صفا کی طرف روانہ ہو جائے ۔

اس طواف کی بڑی فضیلت وارد ہے : إن استلامهما يحط الخطايا قال وسمعته يقول من طاف أسبوعا يحصيه وصلى ركعتين كان له كعدل رقبة قال وسمعته يقول ما رفع رجل قدما ولا وضعها الا كتبت له عشر حسنات وحط عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص نے شمار کر کے سات چکر طواف کیا اور اسکے بعد دورکعت نماز پڑھی تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا ۔

ایک اور حدیث میں ہے طواف کرتے وقت بندہ جو قدم بھی اٹھا تا اور رکھتا ہے تو ہر قدم پر دس نیکاں ملتی ہیں ،دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجے بلند ہوتے ہیں ۔

صفا ومروہ کی سعی :

صفا خانہ کعبہ سے جنوب شرق میں ہے اور مروہ شمال میں ۔

1 :جب صفا پہاڑی دیکھائی دےتو یہ آیت پڑھے : (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ) اور کہے « أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ » ۔{مسلم} یعنی میں بھی اپنی سعی کی ابتدا اس سے کرتا ہو ں جسکا ذکر اللہ تعالی نے پہلے کیاہے ۔

2 : صفا پرچڑھ جائے اور کعبہ کی طرف رخ کرے

3 : ہاتھوں کو اٹھاکر :اللہ اکبر کہے اور یہ ذکر پڑھے ۔

« لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كَلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ».

{مسلم}

4 : پھر دعا کرے اسکے بعد پھر وہی ذکر پڑھے اور دعا کرے اس طرح تین بار کرے ۔

5 : دعا سے فارغ ہوکر دائیں جانب سے مروہ کی طرف چلے ۔

6 : جب راستے میں سبزنشان نظر آجائے تو ہلکی سی دوڑلگائے یہاں تک کہ دوسرے سبز نشان تک پہنچ جائے ۔

7 : اسکے بعد ہلکی چال چلتا ہوا مروہ تک پہنچ جائے {سعی کے دوران کوئی خاص ذکر و دعا اللہ کے رسول سے ثابت نہیں ہے البتہ عبد اللہ بن مسعود سے ثابت ہے کہ وہ یہ دعا کثرت سے پڑھتے}:” رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وتجاوز عما تعلم انك َأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ “

{اخبار مکہ للفاکہی}

8 : مروہ پرچڑھنے کے بعد وہی ذکر ودعا کرے جو صفا پر کیا تھا البتہ آیت کا ٹکڑا نہ پڑھے گا۔

9 : اسطرح ایک شوط {چکر} پورا ہوگیا۔

10 : اسی طرح جب صفا پر دوبارہ واپس آئے تو دوسرا چکر پورا ہو گیا ۔
11 : اسطرح آتے جاتے مروہ پر سات چکر پورے ہوجائیں گے ۔

12 : اب عمرہ کرنے والا اور حج تمتع کرنے والا اپنا بال کٹا کر یا چھلا کر حلال ہو جائے ۔ اگر حج میں کم ہی وقت ہے جیسے آج کل تو قصر ہی افضل ہے ۔

13 : اب اسکے لئے ہر وہ چیز حلال ہو گئی جو حالت احرام میں حرام تھی ۔

اس سعی کی بڑی فضیلت وارد ہے ارشاد نبوی ہے :وأما طوافك بالصفا والمروة بعد ذلك كعتق سبعين رقبة۔۔۔۔۔ اور حج میں تمھارا صفا و مروہ کی سعی کرنا ستر غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔

{ الطبرانی الکبیر والبزار عن ابن عمر }

حج کیلئے احرام و اعمال حج :

آٹھویں ذی الحجہ کے کام اور نویں ذی الحجہ کے کام

1 : جہاں ٹھرے ہوئے ہیں وہیں سے احرام باندھنا اور تلبیہ پکارنا ۔{اس احرام کے وقت بھی وہی کام مسنون ہیں جو میقات پر احرام باندھتے وقت مسنون ہیں جیسے غسل کرنا خوشبو لگا نا وغیرہ} ۔

2 : احرام باندھ کر سیدھے منی جائے ،

3 : منی میں پانچ وقت نماز پڑھنا اور اس مدت میں منی ہی ٹھہرے رہنا مسنون ہے ، یعنی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشا اور نویں تاریخ کی فجر ۔

4 : یہ نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھی جائیں گی اور رچار رکعت والی نمازیں قصر کر کے پڑھی جائیں گی ، یہ حکم باہر سے آنے والوں اور مکہ مکرمہ میں مقیم سبھی کیلئے ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ اہل مکہ نے بھی حج کیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو پوری نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا ۔

نوٹ : واضح رہے کہ منی میں نویں ذی الحجہ کی رات کا قیام واجب نہیں ہے البتہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لہذا اسے چھوڑنا نہیں چاہئے ۔

5 : نویں تا ریخ کی صبح طلوع شمس کے بعد عرفہ کیلئے روانہ ہو ۔

{بعض علماء نے اس دن غسل کر نا مستحب لکھا ہے کیونکہ حضرت علی سےایسا ہی ثابت ہے }

6 : بہتر یہ ہے کہ اگر گنجائش ہو تو میدان عرفات میں جانے سےقبل مسجد عرفہ میں جائے :ان تمام اوقات میں برابر تلبیہ پڑھتا رہے ۔

7 : مسجد میں امام کا خطبہ سنے اور ظہر وعصر کی نماز قصر وجمع کے ساتھ ظہر کے وقت میں پڑھے ۔

8 : اگر مسجد میں جانا مشکل ہو تو اپنے خیمے میں جماعت کے ساتھ ظہر و عصر کی نماز قصر وجمع کے ساتھ پڑھے ، اگر ہو سگے تو وہ تمام لوگ جو مسجد میں نہ جاسکیں اور خطیب کی آواز خیمے تک نہ پہنچ رہی ہو تو ریڈیووغیرہ کے ذریعہ اسکا خطبہ سنیں ۔

9 : نماز ظہر وعصر سے فارغ ہو جانے کے بعد کچھ کھا پی لے ۔

10 : ضروریات سے فارغ ہوکر ذکر و اذکار اور دعا میں مشغول ہوجائے ۔

11 : یہ دن بہت ہی مبارک اور سال کا سب سے افضل دن ہے اسلئے اسے غفلت اور لہو ولعب میں نہیں گزار نا چاہئے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد ہے : خیر الدعا ء یوم عرفہ وخیر ماقلت انا والنبیونمن قبلی : لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ۔

{ الترمذی 3585عن عبد اللہ بن عمرو }

سب سے بہتر ین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے اور سب سے بہتر کلام جو ہم نے اور ہم سے قبل نبیوں نے کہا ہے وہ لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ہے ۔

12 : عرفہ کے میدان میں کہیں بھی ٹھہرا جا سکتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جبل رحمت کے پاس ٹھرے تھے اور فرمایا : وقفت ھھنا وعرفۃ کلہا موقف ۔

{مسلم 1218 ، ابوداود ،النسائی عن جابر }

میں یہاں ٹھہرا ہو ں اور پورا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔

13 : مسجد عرفات کا قبلے کی طرف کا بہت بڑا حصہ میدان عرفات سے خارج ہے اسلئے اگر کوئی شخص مسجد میں ٹھہر تا ہے یا مسجد کے مغربی اور شمالی علاقے میں ٹھہر تا ہے تو اسکا حج صحیح نہیں ہے ۔

14 : جبل عرفات جسے جبل رحمت کہتے ہیں اس پر چڑھنا ، وہاں نماز پڑھنا وغیرہ بدعت ہے ۔

15 : جب سورج ڈوب جائے تو مغرب کی نماز پڑھے بغیر عرفہ سے واپس ہو ۔

16 : عرفات سے رخصت ہو کر مزدلفہ میں ٹھہرے ۔

17 : واضح رہے کہ مزدلفہ میں ٹھہرنا واجب ہے حتی کہ بعض علماء نے اسے حج کا رکن کہا ہے ،لہذ اسے دھیان میں رکھنا چاہئے ۔

18 : مزدلفہ پہنچ کر سب سے پہلا کام مغرب اور عشاکی نماز ، جمع وقصر سے پڑھنا ہے {بطن محسر کے علاوہ پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے }

19 : ضرورت کے مطابق کچھ کھا پی کر اسی میدان میں آرام کریں اس رات اللہ کے رسوال صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عبادت ثابت نہیں ہے ۔

دسویں ذی الحجہ کے کام :

1 : فجر کی نماز بھور میں پڑھی جائے ، اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نماز فجر عام دنوں کے مقابلہ میں پہلے پڑھی تھی ،

{بخاری 1682 }

2 : نماز کے بعد قبلہ رخ ہو کر تسبیح و تہلیل اور دعامیں دیر تک مشغول رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلممشعر حرام کے پاس جہاں آج مسجد ہے دیر تک کھڑے دعا وغیرہ میں مشغول رہے ۔

{مسلم 218 }

3 : حتی کہ بالکل اجالا ہو جائے ۔

4 : جب سورج نکلنے کے قریب ہو تو سورج نکلنے سے قبل منی کیلئے روانہ ہو {جنکے ساتھ عورتیں اور بچے ہوں وہ آدھی رات کے بعد تقریبا ڈیڑھ یا دو بجے مزدلفہ سے منی کیلئے رخصت ہو سکتے ہیں }

5 : رخصتی میں جلد بازی ، تیز رفتاری اور بھیڑ بھاڑ قطعا مناسب نہیں ہے بلکہ تلبیہ اور ذکر الہی میں مشغو رہے ، فدفع قبل ان تطلع الشمس وعلیہم السکینہ

{احمد ،ابوداود عن جابر ،}

6 : منی پہنچ کر اس دن حاجی کو بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں اس لئے اس دن کا نام” یوم الحج الاکبر”رکھا گیا ہے

ا : جمرہٴ عقبی کو کنکری مار نا یہ منی کی طرف سب سے آخری جمرہ اور مکہ کی طرف سے سب سے پہلا جمرہ ہے ،

ب : قربانی کرنا [اگر بینک میں پیسہ جمع کردیا ہے تو اس کام سے حاجی کو فرصت ہے ]۔

ج : سر منڈانا یا بال کو چھوٹے کرانا ۔ بشرطیکہ پورے سر کے بال چھوٹے کرائے جائیں ، منڈانا افضل ہے کیونکہ اولا اللہ تعالی نے قرآن مجید میں چھلانے کا ذکر پہلے کیا ہے ، ثانیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل حلق رہا ہے ، ثالثا آپ نے منڈانے والوں کیلئے تین بار دعا کی ہے ۔

د : طواف افاضہ کرنا ، اور متمتع کےلئے صفا اورمروہ کی سعی کرنا ۔

7 : یہ کام جس ترتیب سے لکھے گئے ہیں اس ترتیب سے سنت ہیں البتہ ضرورت وحاجت کے پیش نظر ان اعمال کو آگے پیچھے کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے ،

{حجۃ النبی للالبانی 86،85 ومثلہ عن ابن عمرو فی المتفق علیہ و عند ابی داود من حدیث اسامۃ بن شریک : ابو داود 2015 }

8 : کنکڑی مارنے کیلئے کنکڑیاں منی اور مزدلفہ میں کہیں سے بھی لی جاسکتیں ہیں ۔

9 : ان اعمال میں صرف کنکڑیاں مارنا ایک ایسا عمل ہے جسے یوم النحر کو شام ہونے سے قبل یا بدرجہ مجبوری رات کو بھی مارسکتے ہیں ، باقی دوسرے اعمال ایام تشریق میں سے کسی بھی دن کئے جا سکتے ہیں ۔

10 : دسویں ذ ی الحجہ کو جمرۃ عقبہ کے پاس پہنچے تو تلبیہ کہنا بند کردے ، اب اسکے بعد سے تلبیہ کہنا سنت نہیں ہے بلکہ تکبیر وتہلیل کہنا مشروع ہے ۔

11 : کنکڑی کا دھونا اور یہ سمجھنا کہ کنکڑیاں مزدلفہ سے ہی لینا سنت ہے ، صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا عقیدہ بدعت ہے ۔

12 : ہر کنکڑی الگ الگ ماری جائے اور مارتے وقت اللہ اکبر کہاجا تا ہے {بہتر یہ ہے کہ کنکڑی مارنے کیلئے اسطرح کھڑا ہو کہ خانہ کعبہ بائیں طرف ہو اور منی دائیں طرف }۔

13 : ضروری ہے کہ کنکڑی حوض میں پڑے ، اگر ستون سے لگ باہر آگئی تو وہ کا فی نہیں ہے ۔

14 : دسویں ذی الحجہ کو کنکڑی مارنے ، سرچھلانے اور طواف افاضہ میں کوئی دوکام کرلینے کے بعد تحلل اول حاصل ہو جائیگا اور تینوں کام کرلینے کے بعد حاجی مکمل طور پر حلال ہو جائیگا ۔

15 : حاجی کیلئے سنت ہے کہ ایام تشریق میں دن ورات منی میں گزارے ۔

16 : اگر یہ کام مشکل ہو تو کم ازکم ایام تشریق کی راتیں یا ان کا اکثر حصہ منی میں گزارنا واجب ہے ۔

ایام تشریق کے کام :

1 : منی میں رات گزار نا یا رات کا اکثر حصہ گزار نا ، اگر کہیں جگہ نہ مل سکے تو منی سے قریب تر جگہ میں رات گزار ے ۔

2 : ایام منی میں کنکڑی مارنا ، واضح رہے کہ ایام تشریق میں تینوں جمرات کو کنکڑیاں ماری جائیں گی ۔

3 : ایام تشریق میں کنکڑی مارنے کا وقت زوال کےبعد سے شرع ہوتا ہے اور غروب آفتاب بلکہ دوسرے دن فجر تک رہتا ہے ۔

4 : سب سے پہلئے جمرۃ صغری { جو مسجد خیف کے قریب ہے } کو سات کنکڑی ایک ایک کر کے مارے اسطرح کہ شمال کی طرف سے آئے منی بائیں طرف ہو بیت اللہ شریف دائیں طرف اور کنکڑی مارتے ہوئے کہے “اللہ اکبر “

5 : کو شش ہو کہ کنکڑی حوض میں گرے ۔

6 : پھر دائیں طرف ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر دیر تک دعا میں مشغول رہے ۔

7 : پھر جمرۃ وسطی کے پاس جائے اور اسے بھی ایک ایک کر کے سات کنکریاں مارے ، اسطرح کہ جنوب کی طرف سے آئے ، منی دائیں جانب ہو اور بیت اللہ بائیں جانب اور کنکڑی مارتے ہوئے “اللہ اکبر ” کہے ۔

8 : پھر کچھ آگے بڑھ کر جمرۃ وسطی کو اپنے دائیں کرکے قبلہ رخ ہوکر دیرتک دعا میں مشغول رہے ۔

9 :پھر جمرۃ کبری کے پاس آئے اور جنوب کی جانب سے اسے بھی ایک ایک کر کے سات کنکریاں مارے۔

10 : جمرۃ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد وہاں دعا وغیرہ کیلئے ٹھرنا نہیں ہے بلکہ واپس ہو جائے ۔

11 : کنکڑیا مارتے ہوئے یہ احساس رہنا چاہئے کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اداکر رہے ہیں نہ تو شیطان کو کنکریاں مارر ہے ہیں اور نہ ہی شیطان وہاں موجود ہوتا ہے بلکہ خشوع وخضوع اور سکینت وقارکو مدنظر رکھے ۔

12 : یہی طریقہ بارہویں دن یعنی ایام تشریق کے دوسرے دن بھی ہونا چاہئے ۔

13 : ضروری ہے کنکڑی مارنے میں ترتیب کو مدنظر رکھا جائے ۔

14 : کسی اور کی طرف سے {بشرطیکہ وہ شخص خود کنکری مارنے سے عاجز ہو تو} کنکری ماری جاسکتی ہیں لیکن دوشرطوں کے ساتھ {1} کنکڑی مارنے والا یعنی وکیل اس سال حج کررہا ہو ۔

{2} پہلے اپنی طرف سی کنکریاں مارے پھر اپنے موکل کی طرف سے اسطرح کہ پہلے اپنی طرف سے جمرۃ اولی کوسات عدد کنکڑی مارے یعنی سات عدد مارے پھر اسی جگہ سے اپنے موکل کی طرف سے مارے ،یہ ضروری نہیں کہ اپنی طرف سے مکمل کرے پھر نئے سرےسے موکل کی طرف سے کنکڑی مارنا شروع کرے

{اللجنۃ الدائمۃ ص3592} ۔

حاجی کا آخری کا م :

1 : بارہویں تاریخ کو کنکڑی مار کر اگر سورج ڈوبنے سے قبل منی سے نکل جائے تو تیسرے یا تیرہویں رات منی میں گزار نا ضروری نہیں ہے ۔

2 : اگر بارہویں ذی الحجہ کو سورج غروب ہو گیا اور منی سے نہیں نکلا تو تیسری رات گزارنا اور تیسرے دن کنکریاں مارنا واجب ہے ۔

3 : اگر نکلنے کیلئے تیار تھا لیکن بھیڑ کی وجہ سے یا ساتھیوں کے انتظا ر میں یا انکے بچھڑجانے کی وجہ سے سورج غروب ہونے سے قبل نہیں نکل سکا تو سورج ڈوبنے کے بعد نکل سکتا ہے ، ایسی صورت میں تیرہویں رات گزارنا واجب نہیں ہے ۔

4 : مکہ چھوڑنے سے قبل آخری طواف اور اسکے بعد دورکعت نماز جسے طواف وداع کہتے ہیں کرنا واجب ہے ۔

5 : ضروری ہے کہ یہ طواف سب سے آخری کام ہو ، اس طواف کے بعد کسی اور کام میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے ۔

اللہ تعالی مسلمانوں کو سنت کے مطابق حج وعمرہ کی توفیق بخشے اور اسکے حج و عمرہ کو شرف قبولیت بخشے [آمین ]

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق