ہفتہ واری دروس

انسانى دل

 

 

بتاريخ : 01/02/ ربيع الآخر 1429ھ 8/7/ اپريل 2008

حديث نمبر : 36

 

عن شهر بن حوشب قال : قلت لأم سلمة : يا أم المؤمنين ! ما كان أكثر دعاء رسول الله r إذا كان عندك ؟ قال : كان أكثر دعاءه : يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك فقلت يا رسول الله ما أكثر دعائك يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك ؟ فقال يا أم سلمة ! أنه ليس آدمي إلا وقلبه بين اصبعين من أصابع الله ، فمن شاء أقام ومن شاء أزاغ . فتلامعاذ : ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا .

( سنن الترمذي : 22، أحمد ، ج : 6 ، ص: 302 / سلسلة الأحاديث الصحيحة : 2091 )

ترجمه :-

مشہور تابعی حضرت شہر بن حوشب رحمہ اللہ سے روايت ہيکہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کيا کہ نبی r جب آپ کے پاس ہوتے تو زيادہ تر کونسی دعا پڑھتے ؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتلايا کہ [ جب آپ ميرے پاس ہوتے تو ] اکثر يہ دعا پڑھتے : يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك ” اے دلوں کو پھيرنے والے ميرے دل کو اپنے دين پر جما دے ، ميں نے سوال کيا کہ اے اللہ کے رسول کيا وجہ ہيکہ آپ يہ کثرت سے پڑھا کرتے ہيں ” يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك ؟ آپ r نے جواب ديا اے ام سلمہ ايسا کوئی شخص نہيں ہے جس کا دل اللہ تعالی کی انگليوں ميں سے دو انگليوں کے درميان نہ ہو ، لہذا وہ جس دل کو چاہتا ہے سيدھی راہ پر قائم رکھتا ہے اور جس دل کو چاہتا ہے صحيح راہ سےپھير ديتا ہے ، يہ سن کر راوی حديث معاذ بن معاذ رحمہ اللہ نے کہا : ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھديتنا ” اے ہمارے رب ہميں ہدايت کے بعد ہمارے دلوں کو ٹيڑھا نہ کر ۔

دين پر ثبات اور استقامت بڑی اہم چيز ہے ، بھائيو ! يہ کمال نہيں کہ انسان مسلمان ہوجائے ، يہ کوئی اہم بات نہيں کہ ايک شخص نماز اور ديگر ارکان اسلام کا پابند ہو جائے ، بلکہ کمال واہم بات يہ ہے کہ بندہ اپنے اسلام اور اعمال وعبادت پر ثابت قدم رہے ، يہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجيد ميں نبيوں اور اپنے نيک بندوں کو دين پر ثابت قدم رہنے اور اپنے ايمان پر سختی سے عمل پيرا رہنے کا تاکیدی حکم ديا ہے اور متعدد جگہ اسکے فضائل بيان کئے ہيں ، اسی طرح اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جانے ، عبادت پر عمل کرنا شروع کرنے کے بعد اسے ترک کردينے کی سخت مذمت بيان کی گئی ہے ” إن الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا كفرا ، لم يكن الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سبيلا …… ( النساء : 137 )

اور دوسري طرف فرمايا : ” إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (13) أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (14) [سورہ احقاف ]

پھر چونکہ استقامت وتذبذب ، پابندی وکجروی کا اصل مرکز انسان کا دل ہے کہ اگر دل سلامت ہے تو ايمان واسلام سلامت ہيں اور اگر دل ميں مرض کفر ونفاق پيدا ہوگيا تو انسان کا ايمان واسلام بھی فساد کا شکار ہوجاتا ہے جيسا کہ ارشاد نبوی r ہے : ” ألا ان في القلب مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب ( متفق عليه ) انسان کے جسم ميں ايک ٹکڑا ہے اگر وہ سدھر گيا تو سارے اعضاء سدھر جاتے ہيں اور اگر وہ فساد کا شکار ہوگيا تو سارے اعضاء فساد کا شکار ہو جاتے ہيں ، اور وہ ہے دل ۔

زير بحث حديث اسی امر کا بيان ہے ، اسی لئے اللہ کے رسول r نے اپنے اس عمل سے ساری امت مسلمہ کو يہ پيغام ديا ہيکہ اپنے دل کی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ ديں ، پھر چونکہ ہر قسم کی توفيق اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اس حديث ميں اللہ تعالی سے خصوصی طور سے مطالبہ کيا گيا ہيکہ وہ ہمارے دلوں کو کج ہونے سے محفوظ رکھے کيونکہ تمام انسانوں کے دل اللہ تعالی کی دو انگليوں کے درميان ہيں اور ان پر اسے ہی قدرت حاصل ہے لہذا جسے ہدايت سے ہمکنار کرنا چاہتا ہے اسکے دل کو ہدايت کی طرف پھيرديتا ہے اور جسکے دل کو اپنے عدل وحکمت سے تيڑھا اور کج کرنا چاہتا ہے اسے ضلالت کی طرف موڑ ديتا ہے ، يہی وجہ ہيکہ ہم سب لوگ يہ ملاحظہ کرتے ہيں کہ کسی کا بھی دل ايک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ انسانی دل موج حوادث کی زد ميں رہتا ہے کبھی نيکی کی طرف متوجہ رہتا ہے تو کبھی برائی کا خيال آتا ہے ، کبھی عبادت میں دل لگتاہے تو کبھی عبادت سے دل اکتاتا ہے ، لہذا ہميں چاہئے کہ ہميشہ دل کے خالق ومالک اور اس ميں تصرف کرنے والے رب قدير سے يہ دعا مانگتے رہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو کجی اور برائی کی طرف پھرنے سے محفوظ رکھے اور اسے صرف اپنی طرف پھيرے رکھے کہ دلوں کے پھيرنے کی ساری طاقت صرف اللہ ہی کے پاس ہے ، اس لئے اس حديث کو سننے کے بعد مشہور امام حديث معاذ بن معاذ ابو المنتی العنبری البصری کی زبان پر فوری يہ کلمات جاری ہوئے کہ ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا ” ۔

فوائد :

١- ايمان کا اصل منبع انسانی دل ہے اور اس پر صرف اللہ تعالی کو مکمل تصرف حاصل ہے ۔ ٢

– دل کے فساد کے شکار ہونے کا خوف ۔ ٣

– اللہ تعالی کی انگلياں بھی ہيں ليکن انکی کيفيت کيا ہے اسکا علم صرف اللہ تعالی کو ہے ۔

٤- اس دعا کی اہميت اسی طرح دوسری احاديث سے بھی معلوم ہوتی ہے جيسے :

” اللهم مصرف القلوب صرف قلوبنا على طاعتك ” ( صحيح مسلم )

اے دلوں کو پھيرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی طاعت پر جما دے ۔

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق