ہفتہ واری دروس

بیوی کی نادانی اور شوہرکی دانائی

حديث نمبر :93

بتاریخ : 23/24 شوال 1430ھ، م 13/12اکٹوبر 2009

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ لاَ يَفْرَكْ مُؤْمِنٌمُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ ‏”‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏”‏ غَيْرَهُ ‏”‏ ‏.‏

( صحيح مسلم :1467 ، النكاح – مسند أحمد :2/329 )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی مسلمان [شوہر ] اپنی مسلمان [بیوی ] سے بغض و نفرت نہ رکھے ، اگر اس کی کوئی عادت ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری عادت پسندیدہ بھی ہوگی ۔

{ صحیح مسلم ومسند احمد }

تشریح : انسانوں کے باہمی تعلقات میں زن و شوہر کے تعلقات کی جو اہمیت ہے وہ کسی وضاحت کی محتاج نہیں ہے اس تعلق میں بہت سے مصالح و منافع وابستہ ہیں ، گھر کا خوشگوار ماحول اور زن وشوہر کا باہمی الفت و اعتماد کا تعلق، دلی سکون و اطمینان کا بہت بڑا سبب ہے ، اسلام نے میاں بیوی کے باہمی حقوق و ذمہ داریوں کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں ان کاخاص مقصد یہی ہے کہ یہ تعلق فریقین کے لئے زیادہ سے زیادہ خوشگوار اور مسرت و راحت کا باعث ہو ، دل جڑے رہیں اور وہ مقاصد جن کے لئے یہ تعلق قائم کیا جاتا ہے بہتر طریقے سے پورے ہوں ، اس سلسلے میں اسلام نے جو ہدایات دی ہیں ان میں سے بعض کا تعلق زن وشوہر دونوں سے ہے جیسے :

” هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ” تمہاری بیویاں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو “۔

اور بعض کا تعلق خاص عورتوں سے ہے جیسے جو مومنہ عورت پانچ وقت کی نماز پڑھ لے ، ماہ رمضان کا روزہ رکھ لے ، اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اپنے شرمگاہ کی حفاظت کرے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوگی [ مشکاۃ ]

اسی طرح بعض ہدایات کا تعلق خاص شوہروں سے ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شوہر کو چاہئے کہ اپنی بیوی کو بھی اپنے ہی جیسا ایک انسان سمجھے ، اسے اللہ کی نعمت شمار کرے ، اس کی قدر کو پہچانے اور اس سے محبت کرے ، اگر اس سےکوئی غلطی ہوجائے تو اس پر چشم پوشی کرے ، صبر وتحمل اور دانشمندی سے اس کے اصلاح کی کوشش کرے ، اس کی ضروریات کو سمجھنے اور پوری کرنے کی کوشش کرے ، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی پوری کوشش کرے ، زیر بحث حدیث میں بھی شوہر کو ایک ایسی ہی تعلیم دی گئی ہے کہ شوہر کو اگر اپنی بیوی کی عادت و اطوار میں کوئی بات مرضی کے خلاف اور ناپسندیدہ معلوم ہو اورچھی نہ لگے تو اس کی وجہ سے اس سے نفرت و بے تعلقی کا رویہ اختیار نہ کرے اور نہ بلا سوچے سمجھے جلد بازی میں طلاق دے دے بلکہ بیوی میں جہاں ایک غلطی و کمی پائی جارہی ہے

اس کے مقابل میں اس میں متعدد خوبیاں بھی ہوں گی مثال کے طور پر وہ بدزبان ہوئی تو دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ وہ خوبصورت بھی ہوگی ، اگر اس کے اندر خوبصورتی نہ ہوگی تو بہت ممکن ہے کہ وہ دین دار ہو ، اگر اس کے اندر شوہر کی اطاعت میں کچھ کمی ہوگی تو بچوں کی تربیت و تعلیم کا اچھا ملکہ رکھتی ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔

اس لئے شوہر کو چاہئے کہ بیوی کی ایک یا دو ناپسندیدہ خصلتوں کو سامنے رکھ کر اس سے کہیں زیادہ یا کم از کم اسی جیسی اس کی اچھی عادتوں کو نظر انداز نہ کرے بلکہ یہ سوچے کہ اگر اس کے اندر دو ایک خصلت ناپسندیدہ ہیں تو کئی ایک خصلتیں ایسی بھی ہیں جو اس بری خصلت کا بدل بن رہی ہیں ، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں پہلو پر نظر رکھی جائے ، صرف برائی کو دیکھنا اور اچھائی سے صرف نظر کرنا یہ انصاف کا تقاضا نہیں ہے ۔

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے مرد اس شرعی ومنطقی اصول کو سامنے نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ان کی گھریلو زندگی مسلسل عذاب بن جاتی ہے وہ اپنی مردانگی اسی میں سمجھتے ہیں کہ عورت تو ان کی تما م کوتاہیوں اور کمزوریوں کو برداشت کرے لیکن وہ عورت کی کسی فطری کمزوری کو برداشت نہ کریں جبکہ یہ سراسر ظلم اور نا عاقبت اندیشی ہے ، اللہ تبارک وتعالی نے بھی اس رویے پر تنقید کی ہے اور شوہروں کو یہ تعلیم دی ہے کہ [وَعَاشِرُوهُنَّ بِالمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا] {النساء:19} اور اپنی بیویوں کے ساتھ معقول و مناسب طریقے سے گزران کرو ، اگر تمہیں وہ ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نہ آئے اور اللہ تعالی نے اس میں بہت خیر و خوبی رکھی ہو ۔

واقعۃ اس حدیث میں ایک ایسا زرین اصول بیان ہوا جس کا تعلق صرف میاں بیوی ہی سے نہیں ہے بلکہ ہر قسم کے تعلق او رتعامل میں یہ اصول کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں بہت سے دینی و دنیوی مصلحتیں وابستہ ہیں ، اگر دونوں فریق اس اصول کو اپنا لیں تو وہ بڑے چین و سکون کی زندگی بسر کریں ، کیونکہ اس دنیا میں کمال اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ، دو دوستوں کی دوستی ، دوساتھیوں کا ساتھ ، دو معاملہ کرنے والوں کا تعامل اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب آپس میں ایک دوسرے کی غلطیوں سے چشم پوشی اور نظر اندازی اور کوتاہیوں سے درگزر کا جذبہ کار فرما ہو ۔

فوائد :

  1. میاں بیوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی خوبیوں پر زیادہ نظر رکھیں اور کوتاہیوں سے نظر پھیریں ۔
  2. ایک دوسرے کی غلطیوں سے چشم پوشی ہی خوشگوار زندگی کی ضمانت ہے ۔
  3. اس دنیا میں کمال مشکل ترین چیز ہے ۔
  4. شادی خانہ آبادی اسی وقت ہوگی جب زن و شوہر ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں ۔

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق