ہفتہ واری دروس

تھوڑی سی توجہ

حديث نمبر : 38

بتاريخ : 15/16/ ربيع الآخر 1429ھ م: 22/21/اپريل 2008

 

عن أبي هريرة t قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الرجل ليصلى ستين سنة وما تقبل له صلاة ولعله يتم الركوع ولا يتم السجود ويتم السجود ولا يتم الركوع .

( الترغيب للأصفهاني / الصحيحة : 2535 )

ترجمہ : حضرت ابو ہريرہ t سے روايت ہيکہ اللہ کے رسول r نے ارشاد فرمايا : ايک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا رہتا ہے حالانکہ اسکی ايک نماز بھی قبول نہيں کی جاتی ، ہوسکتا ہے وہ رکوع تو پورا کررہا ہو ليکن سجود کو پورا نہ کرے ، يا سجود تو پورا کررہا ہو ليکن رکوع کو پورا نہ کرے ۔

تشريح : اللہ تبارک وتعالی کا يہ ايک بڑا احسان ہے کہ اس نے دن ميں پانچ بار اپنے حضور کھڑے ہونے اور آداب وتعظيم بجالانے کا موقعہ عنايت فرمايا ہے جسے ہم پنج وقتہ نماز سے تعبير کرتے ہيں ، يہ نماز ايک حقيقی مسلمان کيلئے بڑا ہی قيمتی تحفہ ہے ، نماز ايک مومن کی معراج ہے جس ميں وہ قرآن مجيد کی تلاوت اور دعا اذکار کے ذريعہ باری تعالی سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرتا ہے ، باادب کھڑے ہوکر اور رکوع وسجدہ کرکے اللہ تعالی کی غايت تعظيم بجا لاتا ہے ، اور يھی اسکی زندگی کا اصل مقصد ہے، اسی لئے دنيا کے سب سے بڑے عبادت گزار ، سب سے بڑے متقی اور اللہ تعالی کی سب سے زيادہ مقرب ومحبوب شخصيت حضرت محمد r جب کسی مشکل و پريشانی ميں مبتلا ہوتے تو نماز کا سہارا ليتے ، ” کان اذا حزبہ امر صلی ” [ ابو داود : 1319 ، احمد ، ج: 5 ، ص: 388 ، براويت حذيفہ ] جب کوئی معاملہ آپ r کو پريشان کرديتا تو آپ نماز کيلئے کھڑے ہوجاتے *** جب کبھی آپ الجھن کا شکار ہوتے تو نماز قائم کرنے کا حکم ديتے ، : يا بلال أقم الصلاة أرحتها بها ( سنن ابوداؤد : 4985، احمد ،ج: 5 ص: 364 ] ائے بلال اٹھو نماز کيلئے اقامت کہو جس سے مجھے راحت ملے ۔ ۔۔ نيز فرماتے : وجعلت قرة عينی فی الصلاة [ سنن النسائی : ج: 7 ، ص: 61 ، احمد ، ج: 3 ،ص: 128 ، بروايت انس ] ميرے آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ميں رکھی گئی ہے ۔ ۔۔۔بڑے ہی خوش نصيب ہيں وہ لوگ جو ان پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام کرتے ہيں ، نماز کے فرائض و واجبات اور شرائط وآداب کے ساتھ ادا کرکے دن ميں پانچ بار اپنے رب کريم کی خوش نودی حاصل کرتے ہيں ، اسکے برخلاف کس قدر بدبخت وہ لوگ ہيں جو نماز تو پڑھ ليتے ہيں ليکن اسکے شرائط وفرائض اور واجبات وآداب کا لحاظ نہ کرکے اس وعيد الہی کے مستحق بن رہے ہيں ۔ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4)الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ سَاهُونَ (5) ان نمازيوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہيں ۔ يعنی کبھی نماز پڑھ لی کبھی چھوڑ دی ، کبھی وقت پر پڑھ لی کبھی بے وقت پڑھ لی ، اور کبھی جلدی جلدی چند ٹھوکريں مارلی ، نماز کو بس ايک عادت اور ورزش کے طور پر پڑھ لی ، اس ميں کيا پڑھے اس پر کبھی غور نہ کيا بلکہ اسکا جسم تومسجد ميں اللہ تعالی کے آگے رہا ليکن دل دنيوی خيالات ميں متفرق رہا ۔۔ وغيرہ ۔

ايسے ہی نمازيوں کا جن کا ذکر ہيکہ وہ سالہا سال سے نماز پڑھ رہے ہيں ليکن انکی نماز بھی قبول نہيں کی گئی ، بھائيو ! يہ سودہ کس قدر خسارے کا ہيکہ ان لوگوں نے نماز تو پڑھا ، اسکے لئے وقت نکالا ، سردی وگرمی برداشت کی اور ايک دو دن نہيں بلکہ اسی طرح ساٹھ سال کی لمبی مدت گزر گئی ليکن اللہ تعالی نے انکی کوئی نماز قبول نہ فرمائی ، جسکی وجہ صرف يہ ہيکہ نماز پڑھنے ميں اسکے آداب وشرائط کو ملحوظ نہيں رکھا گيا ، مـــثــــــــــــــلا :

1- نماز کيلئے شرط ہيکہ اچھی طرح سے وضو کرے ليکن اس نمازی نے نماز سے پہلے وضو کو کامل طرح سے نہيں کيا ۔

2- نماز کيلئے شرط ہيکہ ہر نماز کو اسکے وقت محدد ميں ادا کيا جائے ليکن اس نمازی نے فجر کی نماز سورج نکلنے کے بعد اور عشاء کی نماز آدھی رات گزرجانے کے بعد پڑھی ۔

3- نمازی کيلئے ضروری ہيکہ رکوع وسجود ميں اطمينان کو ملحوظ رکھا جائے ، ليکن اس نمازی نے رکوع و سجدہ ميں اسقدر جلدی سے کام ليا جسطرح کہ ٹھوکريں مار رہا ہو ۔

4- نمازی کيلئے ضروری ہيکہ جب وہ نماز ميں کھڑا ہو تو اسے احساس رہے کہ وہ مالک الملک اور قادر مطلق کے سامنے کھڑا ہے ، ليکن اسی نمازی نے نماز کے دوران کثرت حرکت سے کام ليا اور ايک لمحہ کيلئے بھی اس پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر نہ ہوئے ۔

5- نمازی کيلئے ضروری ہيکہ جب وہ نماز ميں کھڑا ہو تو يہ تصور ميں ہو کہ وہ قادر مطلق ، عالم الغيب و الشھادة سے ہم کلام ہے ، ليکن اس نمازی نے پوری نماز ختم کرلی ليکن اسے يہ احساس تک نہيں کہ اس نے کون کون سی سورت پڑھی ہے ،،،، وغيرہ ۔ ِ***

کيا نماز اور حقيقی نماز ان تمام چيزوں کے مجموعے کا نام نہيں ہے ، اللہ کے رسول r کا ارشاد ہے : ” نماز تين تہائی ميں تقسيم ہے ، طہارت ايک تہائی ہے ، رکوع دوسری تہائی ہے ، اور سجود تيسری تہائی ہے ، چنانچہ جس نے نماز کو اسکے تمام حقوق کے ساتھ ادا کيا تو وہ قبول کی جائے گی ، نتيجتا اسکے دوسرے اعمال بھی قبول کرلئے جائيں گے ، اور جس کی نماز رد کردی گئی اسکے سارے اعمال رد کردئے گئے ، [ مسند البزار ، بروايت ابو ہريرہ ]

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق