ہفتہ واری دروس

رمضان ایک سال اور

حديث نمبر :90

بتاریخ : 19/20 شعبان 1430ھ، م 11/10اگست 2009

ترجمہ : حضرت طلحۃ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بلی کے دوشخص خد مت نبی میں حاضر ہو تے ہیں اور دونوں نے ایک ہی ساتھ اسلام قبول کرلیا ، ان دونوں میں کا ایک شخص عبادت گزاری میں دوسرے سے زیادہ محنت کرنے والا تھا چنانچہ محنت کرنے والا جہاد پر نکلا اور شہید ہو گیا ، پھر دوسرا بھی ایک سال مزید زندہ رہ کر وفات پاگیا ، حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں اور وہ دونوں بھی میرے ساتھ ہی ہیں ، پھر کیا دیکھتا ہو ں کہ ایک شخص جنت سے باہر آتا ہے اور ان دونوں بھائیوں میں سے جس کا بعد میں انتقال ہوا تھا اسے جنت میں داخلہ کی اجازت دیتا ہے ، پھر دوبارہ آتا ہے اور جو شہید ہوا تھا اسے جنت میں داخلہ کی اجازت دیتا ہے اسکے بعد آخر میں میرے پاس آکر کہتا ہے واپس جاؤ ابھی تمھا را وقت نہیں آیا ہے صبح کو حضرت ابو طلحہ یہ خواب لوگوں سے بیان کرنے لگے جس پر لوگ بہت زیادہ تعجب میں پڑے ۔

چنانچہ یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی اور لوگوں نے آپکے سامنے اسکا ذکر کیا ، تو آپ نے فرمایا اس سلسلے میں کس بات پر تمہیں تعجب ہے ؟ تو لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ؟یہ شخص {جسے جنت میں داخلہ کی اجازت بعد میں دی گئی وہ} دونوں میں زیادہ عبادت گزار تھا پھر شہید بھی ہو ا اور دوسرا جنت میں اس سے پہلے داخل ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “الیس قد مکث ھذ ا بعد سنۃ ؟” کیا یہ اس کے بعد سال بھر زندہ نہیں رہا ؟ تو لوگوں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ صلی اللہ علی وسلم نے پھر فرمایا : کیا اس شخص نے رمضان کا مہینہ نہیں پایا {اور اسکا روزہ رکھا} اور اتنی اتنی رکعتیں فرض نماز اور اتنی رکعتیں سنت نہیں پڑھی ؟ لوگوں نےجواب دیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “فما بینہما ابعد مما بین السماء والارض “تو دونوں کے درمیا ن آسمان و زمین سے زیادہ فاصلہ ہے ۔

{ سنن ابن ماجہ : 3925تعبیر الرؤیا مسند احمد ص 163۔ صحیح ابن حبان ،502971 ص20 }

تشریح : اللہ تعالی نے انسان کو ایمان وعمل صالح کیلئے پیدا کیا اور اسیلئے اسے زند گی بخشی ہے لہذ اجس شخص کی زند گی میں ایمان و عمل صالح نہ ہو وہ مردہ ،بے جان اور اندھا ہے کیونکہ وہ شخص زندگی اور بینائی کا مقصد پوار نہیں کررہا ہے اس لئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ سب سےاچھے لوگ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا :

“من طال عمرہ وحسن عملہ” { احمد 4ص188 بروایت عبد اللہ بن بسر }سب سے افضل وہ شخص ہے جسکی عمر لمبی ہو اور جسکا عمل بہتر ہو ، یعنی ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جس کو طویل عمر ملے وہ سب سے خوش نصیب انسان ہے زیر بحث حدیث میں بھی یہی اصول بیان ہو ا ہے کہ ایک ایسا شخص جو عبادت الہی میں کوشاں رہتا ہے اور اللہ تعالی نے اسے شہادت کی زندگی نصیب فرمائی اس پر ایک ایسا شخص سبقت لے جارہا ہے جو اللہ تعالی کے راستے میں شہید نہیں ہوا ہے ، اس کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے کہ دوسرے شخص کو اللہ تعالی نے اچھے عمل کی مزید مہلت عطا فرمائی ،اسے اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے اللہ کے لئے چھ ہزار رکعت فرض نمازیں اور رمضان المبارک کے پورے مہینہ کا روزہ رکھنے اس کے ساتھ معلوم نہیں کتنی نفل نمازیں پڑھنے کا موقعہ نصیب رہا اس لئے اس کا مقام بھی اونچا اور بڑھ کر رہا ، اس حدیث میں ہر مسلمان کے لئے درس عبرت ہے کہ اللہ تبارک وتعالی اگر اسے طویل عمر سے نواز رہا ہے ، نماز پڑھنے اور رمضان المبارک کا روزہ رکھنے کا موقعہ دے رہا ہے تو یہ اس کے لئے خیر اور سعادت مندی کی علامت ہے ، سردست اللہ کے فضل وکرم سے ایک بار رمضان المبارک کا مہینہ پھر میسر آرہا ہے اب دیکھنا ہے کہ ہم میں کون ہے جواس نعمت سے مالا مال ہوتا ہے ؎

یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے

فوائد :

  1. پنج وقتہ نمازوں اور رمضان المبارک کے روزے کی فضیلت ۔
  2. لمبی عمر اور عمل صالح کی توفیق ایک مومن کی بہت بڑی سعات ہے ، اس کے برخلاف لمبی عمر اور اور بد عملی بدبختی کی نشانی ہے ۔
  3. سچا خواب وحی الہی کا ایک حصہ ہے ۔

اچھی عمر : لمبی عمر + نیک کام — مختصر عمر+ نیک کام

بدنصیبی : لمبی عمر + بد کام — مختصر عمر + بد کام

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق