عام مقالات

شادی کے احکام و آداب

‏الحمدللہ وحدہ والصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ۔

شادی تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور فطرت انسانی کا تقاضہ بھی، اس لئے اسلام نے شادی کرنے کی خاص ترغیب دلائی ہے اور نوجوانوں کو اس پر ابھارا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے : اے نوجوانوں جس کے پاس رہنے سہنے اور کھانے پینے کی استطاعت ہے وہ شادی کرے اور جس سے نہیں ہوسکت وہ روزہ رکھے یہ اس کے لئے ڈھال کا کام دے گا ۔

[ صحیح بخاری و صحیح مسلم ، بروایت ابن مسعود ]

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے :شادی کرنا میری سنت ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ،

[سنن ابن ماجہ ،بروایت عائشہ ]

اس لئے ہر نوجوان جس کے پاس خان و خرچ کی طاقت ہو اسے شادی ضرور کرنا چاہئے اور کوشش یہ رہے کہ جتناہو سکے شادی میں اتنی جلدی کرے ۔

اسلام میں شادی کے کچھ آداب و واجبات ہیں اگر اسکا لحاظ کرلیا جائے تو اللہ کے فضل و کرم سے شادی خانہ آبادی اور دنیا و آخرت کی برکت کا سبب ہوتی ہے اوراگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شادی خانہ بربادی اور شقاوت و بدبختی کا سبب بن جاتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر مسلمان نوجوان ان اسلامی آداب کا خاص لحاظ رکھے جن کی طرف ہمارے حضور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمنے رہنمائی فرمائی ہے ۔

نکاح سے پہلے کے آداب :

۱- لڑکی کے انتخاب کے وقت دین و اخلاق پر زیادہ توجہ دینی چاہئے کہ لڑکی دیندار ہو ، بے دین لڑکی سے پرہیز ضروری ہے ،ساتھ ہی ساتھ اچھے اخلاق و عادات والی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : اگر تمہارے پاس رشتہ کا طالب کوئی صاحب خلق و دین آجائے تو اسے رشتہ دے دو ورنہ بڑا فساد پیدا ہوگا ۔

[سنن الترمذی و سنن ابن ماجہ ،بروایت ابو ہریرہ ]

۲- اگر لڑکی صاحب خلق و دین ہے اور اس کے ساتھ خوبصورت بھی ہو تو یہ بہت اچھی چیز ہے لیکن خوبصورتی دین کے حساب پر ہر گز نہ ہونی چاہئے ۔

۳- لڑکی کو کنواری اور باکرہ ہو یہی بہتر اور افضل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کنواری لڑکیوں سے شادی کرو کیونکہ ان کی باتیں بہت میٹھی ہوتی ہیں اور بچہ زیادہ جنتی ہیں اور معمولی چیز یا کام پر راضی ہوتی ہیں ۔ [ سنن ابن ماجہ بروایت عتبہ بن عویم ]

۴- لڑکی ایسی ہونی چاہئے جس کی مہر ہلکی ہو ، بڑی بڑی اور زیادہ رقم کی مہر باندھنا نکاح اور لڑکی کے بابرکت ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے برعکس ہی صحیح ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بہترین عورتیں وہ ہیں جو خوبصورت ہوں اور ان کی مہر کم ہو ۔ [ المغنی عن حمل الاسفار :1/384 ]

۵- شادی سےپہلے عورت کے خاندان کو دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے والدین دیندار ہیں کہ نہیں اس کے بھائی بہنیں اچھے اخلاق و عادات کے ہیں کہ نہیں وہ خاندان ذہین اور سمجھدار لوگوں کو پیدا کرتا ہے یا کہ بے وقوف ، پاگل اور لولے لنگڑے لوگ ہی اس خاندان میں پیدا ہوتے ہیں ۔

صرف یہی کافی نہیں ہے کہ اس گھر کے لوگ بہت خوبصورت ہوتے ہیں ، بلکہ اخلاق و عادات دینداری اور ذہانت و سمجھ وغیرہ کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اپنے نطفے کیلئے اچھی نسل کا انتخاب کرو ۔ [ سنن ابن ماجہ بروایت عائشہ ]

۶- ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جس خاندان میں ہم شادی کررہے ہیں اس خاندان کی عورتوں میں بانجھ پن تو نہیں ہوتا ، کیونکہ شادی کے بعد انسان کی جو سب سے پہلی خواہش ہوتی ہے وہ بچے کی خواہش ہے ، ہر عورت اور مرد چاہتا ہے کہ اس کی گود ہری بھری ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : زیادہ محبت کرنے والی اور بچہ جننے والی عورت سے شادی کرو کیونکہ میں دن قیامت میں دوسری امتوں پر اپنی امت کی زیادتی کے سبب فخر کروں گا ۔ [ سنن ابو داود ، سنن النسائی ، بروایت معقل بن یسار ]

۷- کوشش یہ ہونی چاہئے کہ شادی سے پہلے اگر ہونے والی اپنی بیوی کو دیکھ لے تو بہتر ہے، تاکہ بعد میں کسی کو یہ شکایت نہ ہو کہ مجھے یہ لڑکی پسند نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر کسی لڑکی سے شادی کا ارادہ ہے تو اسے دیکھ لو یہ مستقبل میں محبت کا سبب ہوگی ۔

[ سنن الترمذی و ابن ماجہ ، بروایت مغیرہ بن شعبہ ] ۔

نکاح کے بعد کے آداب :

۱-شادی کے بعد یعنی عقد نکاح کے بعد جب شوہر اپنی بیوی کے پاس جائے تو چاہئے کہ سب سے پہلے اسے کوئی کھانے یا پینے کی چیز پیش کرے یا کوئی خوبصورت اور قیمتی چیز ہدیہ کے طور پر پیش کرے تاکہ بیوی اپنے شوہر سے مانوس ہو ، ایسا نہ ہو کہ پہلی ہی بار میں اس سے خائف اور متنفر ہوجائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو آپ نے سب سے پہلے پینے کیلئے کوئی میٹھی چیز پیش کی تھی ۔

[ مسند احمد بروایت اسماء بنت عمیس ]

۲- شوہر اپنی بیوی کے پاس جائے تو سب سے پہلے اس کی پیشانی پر محبت سے ہاتھ رکھ کر دعا پڑھے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی کسی عورت سے شادی کرے یا کوئی لونڈی خریدے تو اس کی پیشانی کو پکڑے ، بسم اللہ کہے ، برکت کی دعا کرے اور کہے :

اللهم إني أسئلك خيرها وخير ما جبلتها عليه ، وأعوذبك من شرها وشر ما جبلتها عليه ” [ سنن ابن ماجہ ، الحاکم بروایت عبد اللہ بن عمر و ]

اے اللہ میں اس کی بھلائی کا اور جس بھلائی پر تو نے اسے پیدا کیا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور ہر اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے ۔

۳- وظیفہء زوجیت میں مشغول ہونے سے پہلے میاں بیوں کیلئے مستحب ہے کہ دونوں ایک ساتھ دو رکعت نماز پڑھیں ۔

حضرت حریز بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ہم نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھ سے نفرت کرےگی ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ الفت و محبت اللہ تبارک وتعالی کی طرف سےہے اور نفرت و دشمنی شیطان کی طرف سے ہے ، شیطان چاہتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالی نے تمہارے لئے حلال کیا ہے اسے تمہارے نزدیک نا پسندیدہ بنا دے ، اس لئے جب اپنی بیوی کے پاس آنا تو اس اسے کہو کہ تمہارے پیچھے کھڑی ہو کر دو رکعت نماز پڑھے پھر تم یہ دعا کرو : اے اللہ میرے اہل میں تو برکت دے اور مجھے اس کے لئے باعث برکت بنا اور ہم دونوں کو بھلائی اور نیکی کی چیزوں پر اکٹھا کر اور اگر جدائی بھی ہو تو ہم دونوں کو بھلائی ہی پر جدا کر ۔

[مصنف بن ابی شیبہ ، الطبرانی الکبیر ]

۴- ہم بستر ہونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لینا بہت اہم ہے :

“بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا “

[ صحیح البخاری ، بروایت ابن عباس ]

اللہ کے نام سے شروع ، اے اللہ ہمیں شیطان سے بچا اور ہمیں جو اولاد عطا کرے اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ دعا پڑھی گئی اور اولاد کی پیدائش مقدر ہوئی تو اسے شیطان کبھی بھی نقصان نہ پہونچا سکے گا ۔

۵- ان مقدمات کے بعد اب شوہر اپنی بیوی سے ہم بستر ہوسکتا ہے ،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ صرف آگے ہی کے راستے میں ہم بستر ہو جو ایک گندی اور ملعون عادت پیچھے کے راستے میں ہم بستر ہونے کی ہے یہ سراسر حرام اور ملعون ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کے پیچھے راستے سے لذت اندوز ہو وہ ملعون ہے ۔

[ سنن ابو داود ، مسند احمد بروایت ابو ہریرہ ]

۶- اسی رات اگر دوسری بار میں ہم بستر ہونا ہے تو درمیان میں غسل کرلے، اگر غسل مشکل ہو تو وضو کرلے ، البتہ بغیر غسل یا وضو کےدوبارہ ہم بستر ہونا مناسب نہیں ہے کم از کم اتنا تو ضرور کرنا چاہئے کہ اپنی شرمگاہ دھو لے ۔ [ دیکھئے آداب الزفاف للالبانی ، ص : 107،108 ]

۷- حالت جنابت میں یعنی ناپاکی کی حالت میں سونا بہت ہی نا مناسب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے نزدیک رحمت کے فرشتے نہیں جاتے ، کافر کا مردہ ، رنگین خوشبو { جو عورتوں کے لئے خاص ہے } استعمال کرنے والا اور جنبی الا یہ کہ وہ وضو کرے ۔

[ سنن ابو داود و الترمذی ،بروایت عمار ] ۔

اس لئے بہتر تو یہ ہے کہ غسل کرکے سوئے اور اگر نہیں تو وضو کرکے سویا کرے اور اگر یہ بھی مشکل ہے تو کم از کم اپنی شرمگاہ کو ضرور دھولے ، بدرجہ مجبوری بغیر وضو و غسل کے بھی سو سکتا ہے البتہ بغیر غسل و وضو کے سونے کی عادت بنا لینا سخت ناپسندیدہ ہے ، اگر کبھی کبھار سستی کی وجہ سے نہ نہا سکا یا وضو نہ کرسکا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [ دیکھئے آداب الزفاف ، ص : 115 ]

۸- عورت اگر حالت حیض میں ہے تو ہرگز اس سے ہم بستر نہ ہو البتہ جماع کے علاوہ اس کے پورے جسم سے لذت اندوز ہو سکتا ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص حالت حیض میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرے ، یا عورت کے پیچھے حصے میں آئے یا کاہن کی بات مانے تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ چیز کے ساتھ کفر کیا ۔

[سنن ابو داود و الترمذی ، بروایت ابو ہریرہ ]

۹- ایک بہت ہی گندی عادت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں پھیلی ہوئی ہے جس سے سخت پرہیز کی ضروت ہے ، شادی کے بعد عام طور پر لڑکے اپنے دوستوں اور لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے اپنےازدواجیتعلقات کی باتیں بتلاتے ہیں حالانکہ بہت سےنوجوان ان خاص باتوں کو بیان کرنے بھی نہیں شرماتے جو صرف میاں اور بیوی کے بیچ کے تعلقات اور کام ہیں، ایسا کرنا سراسر حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : دن قیامت اللہ کے نزدیک میں سب سے برا شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے پاس آئے اور صبح جاکر لوگوں کے سامنے وہ باتیں بیان کردے ۔

[ صحیح مسلم و مسند احمد وغیرہ بروایت ابو سعید الخدری ]

ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شیطان کسی شیطانن سے ہم بستر ہوا اور لوگ اس کے کام کو دیکھتے رہے ۔ [ مسند احمد بروایت اسماء بنت یزید ]

۱۰- میاں اور بیوی دونوں ایک ساتھ غسل کرسکتے ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن { بالٹی } میں پانی رکھ کر ایک ساتھ نہاتے تھے، بسا اوقات ہمارے ہاتھ ایک دوسرے سے لڑجاتے تھے تو میں کہتی تھی مجھے بھی لینے دیجئے مجھے بھی لینے دیجئے ۔

[ متفق علیہ ، بروایت عائشہ ]

کچھ دوسرے آداب :

۱- شادی کی صبح دولہے کے لئے یہ مستحب ہے کہ گھر میں موجود مہمانوں کے پاس آکر ان سے سلام و دعا کرے اور مہمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی دولہا کو دعائیں دیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کئے تو مسلمانوں کو روٹی اور گوشت سے آسودہ کردیا پھر امہات المومنین کے پاس صبح کو آئے اور ان کو سلام کیا اور انہیں دعائیں دیں ، امہات المومنین نے بھی سلام کا جواب دیا اور دعائیں دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شادی کی صبح ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ [ صحیح البخاری بروایت انس ]

یہ وہ اسلامی ادب ہے جس کی جگہ آج ہمارے یہاں غلط قسم کے مذاق اور واہیات باتوں نے لے لیا ہے ۔

۲- ولیمہ کرنا بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے بلکہ بہت سے علماء کے نزدیک واجب ہے،

[ دیکھئے آداب الزفاف ، ص : 144 ]

لیکن اس کا صحیح وقت وہ ہے کہ دولہا جب اپنی دولہن کے پاس جائے تو اس کے بعد کا دن ،

ولیمہ حسب اسطاعت ہونا چاہئے یعنی فقیر اپنی طاقت کے مطابق اور مالدار اپنی استطاعت کے مطابق ولیمہ کرسکتا ہے اور اس کی مدت صرف تین دن تک ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب شادی کی تو ان کا ولیمہ تین دن کیا ۔ [ مسند ابو یعلی بروایت انس ]

۳- جو لوگ دعوت میں حاضر ہوں انہیں دولہا دولہن کےباہمی اتفاق و اتحاد کے لئے دعائیں کرنا چاہئے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو اسکی شادی پر مبارک باد دیتے تو فرماتے : بارک اللہ لک وبارک علیک و جمع بینکما علی خیر ۔ [ سنن ابوداود و الترمذی بروایت ابو ہریرہ ]

۴- شادی کے موقعہ پر سہرا وغیرہ پڑھنا ایک اچھی چیز ہے ، لیکن یہ دھیان رہے کہ اس میں کسی بھی قسم کے گندے اشعار پڑھنے کی گنجائش نہیں ہے اور گانے وغیرہ کی رکارڈنگ کا پروگرام رکھنا تو اوربھیبری چیز ہے ۔

۵- شادی کی مناسبت اور دوسرے اوقات میں بعض لوگ بہت سے غیر اسلامی اعمال کا جو شرعا حرام ہیں ارتکاب کرتے ہیں، مثلا میاں بیوی کا فوٹو لینا خاص کر ایسی صورت میں جب کہ بیوی اپنے پورے زیب و زینت کے ساتھ ہوتی ہے یہ کام یقینا شرعا حرام ہے ، اسی طرح شادی کی محفل کا ویڈیو کیمرہ کے ذریعہ فلم بنانا جس میں عورتیں اور ان میں بوڑھی جوان، خوبصورت اور بدصورت ،شرعی اور غیر شرعی لباس پہننے والی سبھی قسم کی عورتیں ہوتی ہیں ۔

اسی طرح دولہے کا سونے کی انگوٹھی پہننا جو شرعا مرد کے لئے حرام اور کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ، اسی طرح بہت سی عورتوں کا اپنا ناخن بڑھانا اور اس پر ناخون پالش کا استعمال ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں شرعا حرام ہیں، اگر ناخون پر پالش لگی ہو تو اس سے وضو صحیح نہیں ہے ، اسی طرح نوجوانوں کا اپنی داڑھی کا چھلانا خاص طور پر شادی وغیرہ کے موقعہ پر جب کہ یہ سراسر حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق