ہفتہ واری دروس

شراب،مردار،خنزیر ؟؟؟

حديث نمبر :95

بتاریخ : 07/08/ ذو القعدہ 1430 ھ، م 27/26اکٹوبر 2009

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن الله حرم الخمر وثمنها وحرم الميتة وثمنها وحرم الخنزير وثمنه .

( سنن أبوداؤد :3485 ، البيوع – المعجم الوسيط :116، 1/113 )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی شراب کو حرام کیا اور اس کی قیمت [ خرید وفروخت ] کو بھی حرام کیا ، مردار کو حرام کیا اور اس کی قیمت [خرید وفروخت ] کو بھی حرام کیا ، سور کو حرام کیا اور اس کی قیمت [خرید وفروخت ] کو بھی حرام کیا ۔

{ سنن ابو داود ، ومعجم اوسط } ۔

تشریح : اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کے لئے پاکیزہ چیزوں کا کھانا حلال اور گندی چیزوں کا کھانا حرام کیا ہے سورہٴ بقرہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاو پیو اوراللہ تعالی کا شکر کرو اگر تم خاص اس کی عبادت کرتے ہو [البقرہ : 172] ۔

سورہٴ مائدہ میں ہے کہ : ” لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں [المائدہ :4] ۔

قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ بھی ہے بیان کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو حرام فرماتے ہیں [الاعراف :157] ۔

من جملہ جن خبیث چیزوں کو اسلام نے امت پر حرام کیا ہے اس میں سور کا گوشت ، مردار ، ذبح کرتے وقت بہا ہوا خون ، استھانوں پر ذبح کیا ہوا جانور اور شراب سر فہرست ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : ” تم پر مردہ ، بہا ہوا خون ، سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے” [ البقرہ :173 ] ۔

زیر بحث حدیث میں بھی ایسی ہی تین خبیث چیزوں کا ذکر ہے :

[۱] شراب [۲] مردار [۳] سور ۔

شراب سے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے {سنن ابن ماجہ }

چنانچہ علم جدید یہ ثابت کر رہا ہے کہ ہر سال صرف شراب نوشی کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو لیتے ہیں ، جگر کا کینسر ، معدے کی نالی کا کینسر ، آنت کا کینسر حتی کہ بہت سی جلدی بیماریاں جیسے گنجا پن وغیرہ کا سبب بھی شراب بنتی ہے ۔

اسی طرح سے مردہ جانور کو اسلام نے حرام کیا ہے کیونکہ خون میں مختلف قسم کی جراثیم اور بیکٹیریا ہوتے ہیں اور جب جانور ذبح کیا جاتا ہے تو وہ جراثیم اور زہریلے مادے خون کی نالیوں سے خون کے ساتھ بہہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گوشت انسانی صحت کے لئے مضر نہیں رہجاتا ، برخلاف اس کے اگر جانور کو جھٹکے سے مارا جائے یا وہ طبعی موت مرا ہے تو خون کے جراثیم اور زہریلے مادے اس کے گوشت میں منجمد ہوجاتے ہیں جو بعد میں مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔

رہا سور کا گوشت تو علم جدید یہ شہادت دے رہا ہے کہ وہ ستر سے زائد خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے جن میں کولیسٹرول کی زیادتی ، خون کی نالیوں کا تنگ ہونا جس سے ہارٹ اٹیک وغیرہ سرفہرست ہیں ، اسی طرح سور کا گوشت معدے اور آنتوں میں مختلف قسم کی خطرناک کیڑوں کے جنم لینے کا بہت بڑا سبب ہے خاص کر نیپ ورم جسے عام زبان میں کدو دانہ کہتے ہیں سور کا گوشت اہم سبب ہے جس کا انڈا خون میں شامل ہوکر تقریبا تمام اعضاء تک پہنچ جاتا ہے ، نیز سور گوشت دیگر گوشت کے مقابلہ میں چربی زیادہ پیدا کرتا ہے اور چربی جب خون کی نالیوں میں جم جاتی ہے تو فالج ، دل کے دورہ اور ہائی بلیڈ پریشر کا سبب بنتی ہے ۔

اور حیران کن بات یہ ہے سور روئے زمین کا گندہ ترین اور سب سے بے غیرت جانور ہے ، یہ واحد جانور ہے جو دیگر نر سوروں کا ترغیب دیتا ہے کہ اس کی ساتھی سورنی کے ساتھ جنسی فعل کریں ، اور آج کل دنیا میں پھیلی ہوئی وبا ” سوائن فلو ” نے تو یہ ثابت کردیا کہ سور کا گوشت کھانے سے پیدہ شدہ بیماریاں صرف سور کھانے والے تک یا انہیں کے علاقے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ اوروں اور دیگر علاقوں تک بھی بڑی آسانی اور تیزی سے پہنچ جاتی ہیں ، آج یہ مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں سور کے گوشت کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور ایسے ہزاروں لوگ اس تو اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن کی آنکھوں نے سور کا گوشت دیکھا بھی نہیں ہے ۔

انہیں وجوہات کی بنیاد پر اسلام نے سور کو نجس ترین جانور گردانا ہے اور صرف اس کے کھانے سے نہیں بلکہ اس کے پالنے اور اس کی خرید وفروخت کو بھی حرام کیا ہے ۔ کا شکہ لوگ عبرت حاصل کرتے ۔

فوائد :

  1. اسلام نے جن چیزوں کو حلال کیاہے وہ پاکیزہ ہیں ۔
  2. اسلام میں جن چیزوں کا استعمال حرام ہے ، ان کی خرید وفروخت بھی جائز نہیں ہے ۔
  3. حرام چیزکی قیمت حرام اور خبیث ہے ۔
  4. حرام چیزیں انسان کے دین و اخلاق کے لئے مضر ہیں ۔

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق