موسمي مضامين

شعبان المعظم : سنتیں اور بدعتیں

مقدمہ:
ارشاد باری تعالی ہے :

{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} ۔الانعام:153

اور یہ دین میرا سیدھا راستہ ہےجو مستقیم ہے ،سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں ہر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی ، اس کا تم کو اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

{شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ} ۔ الشوری:13۔

اللہ تعالی نے تمھارے لئے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کوحکم دیا تھا، اور جو بذریعہ وحی ہم نے آپ کی طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسی اور عیسی علیہم السلام کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ۔

ان دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہر کلمہ گو کو اس بات کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ صراط مستقیم کو لازم پکڑے اور اس سے ذرہ برابر بھی ادھر ادھر نہ ہو ، یہی راستہ انبیا٫ علیہم السلام کا بھی رہا ہے اور اسی پر چلنا انسان کی حسن عاقبت کے لئے ضمانت ہے، اور اس راستے سے ذرہ برابر دائیں بائیں ہونا اس کی ہلاکت کا سبب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو ایک مثال سے سمجھایا ہے ، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچا اور فرمایا : “یہ اللہ کا راستہ ہے” پھر اس خط کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے اور فرمایا : ان راستوں میں سے ہر راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہے اور اس کی طرف بلا رہا ہے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} (153)

ان ٓیات واحادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ خواہ وہ دیکھنے میں کتنا ہی اچھا لگے گمراہی کا راستہ ہے ،اسی چیز کو شریعت کی اصطلاح میں بدعت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ سب کو معلوم ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبہ جمعہ میں اسی بات پر توجہ دلاتے ہوئے فرماتے تھے:

إن أصدق الحديث كتاب الله وأحسن الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة (وكل ضلالة في النار).صحیح مسلم:867 الجمعہ سنن ابن ماجہ: 45 المقدمہ، سنن النسائی :1579 العیدین بروایت جابر۔

سب سے عمدہ بات کلام الہی ہے اور سب سے عمدہ طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے برے کام نئے ایجاد کردہ ہیں (جو بدعت ہیں) اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں جانے کا ذریعہ ہے۔

ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے:

(من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد) صحیح مسلم: 1718 الاقضیۃ ، بروایت عائشہ۔

جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے حکم کے مطابق نہیں ہے تو وہ گمراہی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسالے کو اور بھی واضح کردیا تھا چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر ایک خطبے میں فرمایا:

قد يئس الشيطان بأن يعبد بأرضكم و لكنه رضي أن يطاع فيما سوى ذلك مما تحاقرون من أعمالكم فاحذروا يا أيها الناس إني قد تركت فيكم ما إن اعتصمتم به فلن تضلوا أبدا : كتاب الله و سنة نبيه صلى الله عليه و سلم.مستدرک الحاکم1/93، دیکھئے صحیح الترغیب1/124.125۔

شیطان اس بات سے تو ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرہ عرب میں اسکی عبادت کی جائے ،البتہ اس کےعلاوہ تمہارے بعض ان امور میں اپنی اطاعت پر راضی ہے جسے تم حقیر سمجھتے ہو، لہذا اس سے ہشیار رہنا ، یاد رکھو میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی بھی گمراہ نہ ہو گے : اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔

معلوم رہےکہ سنت کا راستہ بالکل واضح اور روشن ہے اور اس ہٹ کر شیطان کے راستے پر چل پڑنا ہلاکت کا ہم معنی ہے، ارشاد نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم ہے :

[قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي الا هال] ۔السنۃ لابن ابی عاصم: 48، مسند احمد2/126 سن ابن ماجہ: 43 المقدمہ بروایت عرباض۔

میں تم لوگوں کو ایسی شاہراہ پر چھوڑ رہا ہوں جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں ،اس سے وہی شخص بھٹکے گا جو گمراہ ہونے والا ہے۔
مشہور صحابی رسول حضرت حذیفہ ب

ن یمان رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگردوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ہر ایسی عبادت جس کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نہیں کرتے تھے تم لوگ بھی اس پر عمل نہ کرو، اس لئے کہ تم سے پہلوں نے س بارے میں کسی بات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے ، لہذا اے قاریوں کی جماعت( طالب علمو ) اپنے سے ماقبل بزرگوں ( صحابہ ) کے طریقے ہی کو اپناو۔ البدع لابن وضاح۔
اس وضاحت کے بعد جو شخص بھی بدعت کی طرف مائل ہو بلا شبہ وہ ہلاکت وبربادی کی راہ پر ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے اس اہتمام کے باوجود اس امت کے ایک بڑے گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا اور طرح طرح کی بدعات وخرافات میں اس طرح مبتلا ہو گئے کہ ان کے درمیان سے ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں ، جیسا کہ اس کی پیشین گوئی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے:

مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنْ السُّنَّةِ فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ. مسند احمد4/105، الطبراني الكبير8/99 بروايت غضيب بن الحارث.

جب کوئی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے تو اس کےعوض ان سے ایک سنت چھین لی جاتی ہے، اس لئے سنت پر جمے رہنا بدعت ایجاد کرنے سےبہتر ہے۔

اس کی سب سے واضح مثال شعبان کا مہینہ ہے کہ اس مبارک ماہ کے مشروع کاموں کو تو عمومی طور پر لوگوں نے ترک کردیا ہے اور ان کے عوض متعدد بدعتیں رائج ہو گئی ہیں ، ذیل میں اس ماہ کی سنتوں اور بعض بدعتوں کی وضاحت کی جاتی ہے۔

شعبان کا مہینہ اور اور اس میں مشروع کام۔

ماہ شعبان کا ایک مبارک مہینہ ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین اس ماہ کا خصوصی اہتمام کرتے تھے، اس کی فضیلت میں متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں:

1—حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا شروع کردیتے تو ہم سمجھتے کہ اب آپ افطار نہ کریں گے اور جب کبھی افطار کرنا شروع کردیتے تو ہم سمجھتے کہ اب اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ ہی نہ رکھیں گے ، نیز ہم نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کا پورا روزہ رکھا ہو ، اور آپ کو جتنا ہم نے ماہ شعبان میں روزہ رکھتے دیکھا اتنا روزہ رکھتے کسی اور ماہ میں نہیں دیکھا۔
صحیح البخاری:1969 الصوم، صحیح مسلم:1156 الصوم۔

2—حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی عادت مبارکہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھآ کہ آپ شعبان ورمضان کے علاوہ کسی دوماہ کا روزہ لگاتار رکھتے ہوں۔
سنن الترمذی:736 الصوم، سنن ابوداود:2336الصوم، سنن النسائی4/200۔

3—نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا شروع کردیتے تو پھر افطارنہ کرتے حتی کہ ہمیں یہ شبہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سال افطار کرنے کا ارادہ نہیں ہے، پھر جب افطار کردیتے ےتو افطار ہی کئے رہتے حتی کہ ہم یہ خیال کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب اس سال روزہ ہی نہ رکھیں گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو [نفلی روزہ] سب سے زیادہ شعبان کے ماہ میں محبوب تھا۔
مسند احمد3/229، الطبرانی الاوسط5/385 رقم:4763۔

ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے ماہ میں بکثرت روزہ رکھتے تھے بلکہ بعض صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار پورے شعبان کا روزہ رکھتے تھے، چنانچہ حضرات عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفلی روزہ شعبان سے زیادہ کسی اور ماہ میں روزے نہیں رکھتے تھے حتی کہ شعبان کے پورے ماہ کا روزہ رکھتے تھے۔
صحیح البخاری:1970الصوم، صحیح مسلم: 1156 الصوم۔

اب یہاں یہ سول پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ میں نفلی روزے کا اس کثرت سے جو اہتمام کرتے تھے اس کی کیا وجہ تھی؟ اس سلسلےمیں وارد بعض حدیثوں میں اس کی وضاحت ملتی ہے، چنانچہ حب ابن حب رسول حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں بکثرت روزہ رکھتے ہیں تو میں نے سوال کیا کہ اے رسول اللہ جس قدر کثرت سے روزہ آپ شعبان میں رکھتے ہیں کسی اور ماہ میں نہیں رکھتے، اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا: ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان وهو شهر يرفع فيه الأعمال إلى رب العالمين فأحب ان يرفع عملي وأنا صائم. مسند احمد5/201، سنن النسائي4/201.

یہ وہ ماہ ہےکہ جس میں لوگ رجب ورمضان کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے عبادت میں غفلت برتتے ہیں، حالانکہ اس ماہ میں اعمال اللہ تعالی کے حضور پیش کئے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال اللہ تعالی کے حضور پیش ہوں تو میں اس وقت روزے سے رہوں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس ماہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت روزہ رکھنے کی دو اہم وجہیں تھیں ۔
ا— لوگوں کی غفلت۔
ب— اور اس ماہ میں نامہ اعمال کی پیشی۔

اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں چیزیں ہی قابل لحاظ ہیں۔

پہلی وجہ:
چونکہ لوگ ماہ رجب کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں کیونکہ وہ حرمت والے مہینوں میں کا ایک ہے،اور رمضان المبارک کا اہتمام کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کا روزہ فرض اور اس کی فضیلت بہت زیادہ ہے ، اور شعبان میں عبادت سے غافل ہو جاتے ہیں ، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ایسے وقت میں اللہ کو یاد کروں جب لوگ اس کے ذکر سے غافل ہوں کیونکہ کسی بھی ایسے وقت میں جس میں لوگ عبادت یا ذکر الہی سے غافل ہوں ، ذکر الہی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تہجد کی نماز تمام نمازوں سب سے افضل ہے، بازار میں ذکر الہی کی بڑی فضیلت ہے، صحراء میں اذان دےکر نماز پڑھنے کی بڑی اہمیت وارد ہے، وغیرہ وغیرہ۔

لوگوں کی غفلت کے اوقات وایام میں ذکر الہی کے افضل ہونے کے تین اسباب کا ذکر امام ابن رجب رحمہ اللہ نے کیا ہے:

(ا) ایسا عمل عمومی طور پر پوشیدہ ہوتا ہے اور پوشیدہ عمل اللہ تعالی کو بہت پسند پے۔

(ب) ایسا عمل نفس انسانی ہر بھاری پڑتا ہے اور بندہ جو عمل خیر نفس کی مخالفت میں اللہ کے لئے کرتا ہے وہ عمل اللہ کو بہت پسند ہے۔

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى (41)النازعات۔

ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔

(ج) غافل اور معصیت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے درمیان عبادت میں مشغولیت ان لوگوں پرسے عذاب الہی کے ٹلنے کا سب بنتا ہے۔لطائف المعارف ص:252،255۔

دوسری وجہ۔
کسی بھی نیک عمل پر خاتمہ کی بڑی اہمیت ہے اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اہتمام فرماتےتھے اور اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ بھی اس کا اہتمام کریں ، یہی وجہ کہ جس کا خاتمہ کسی نیک عمل پر ہو گا اس کا حسن خاتمہ سمجھا جائے گا، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: ۔

من كان آخر كلامه لا إله إلا الله وجبت له الجنة . مسند احمد5/233، سنن ابوداود:2116، الجنائز.

اس دنیا سے رخصتی کے وقت جس کی آخری بات “لا الہ الا اللہ ” ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا۔

اس ماہ کے مشروع کام ۔

اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس ماہ کے مشروع کام کیا ہیں، تاکہ راہ سنت پر چلنے کا خواہشمند مسلمان انہیں اپنے لئے زاد راہ بنا سکے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں اور علمائے حق کے بیان سے جو کچھ ہم نے سمجھا ہے وہ یہ ہے۔

1—روزہ۔
اس ماہ کا سب سے اہم کام نفلی روزے ہیں ، جیسا کہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے، البتہ یہ واضح رہے کہ عام لوگوں کے لئے جولوگ عام دنوں میں روزہ نہیں رکھتے اور نہ وہ پیر اور جمعرات وغیرہ دنوں میں روزہ رکھنے کے عادی ہیں، نصف شعبان کے بعد ان کے لئے روزہ رکھنا بہتر نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إذا انتصف شعبان فلا تصوموا. سنن ابوداود:2337 الصوم، سنن الترمذي:738 الصوم، سنن ابن ماجة: 1651 الصوم برايت ابو هريرة.

جب شعبان نصف کو پہنچ جائے تو روزہ نہ رکھو۔

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اولا رمضان المبارک کی لئے قوت وتوانائی باقی رہے، ثانیا اس شبہے سے بچے رہیں کہ ایسا رمضان کے استقبال میں کیا جارہا ہے۔

2—کبائر سے پرہیز۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:

إن الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان . فيغفر لجميع خلقه . إلا لمشرك أو مشاحن .
سنن ابن ماجة:1390اقامة الصلاة، بروايت ابو موسى، اور معجم الطبراني الكبير 20/108، صحيح ابن حبان8/193.

اللہ تبارک وتعالی شعبان کی پندرہویں شب کو اپنی تمام مخلوق کی طرف نظر فرماتا ہے چنانچہ سب کی مغفرت کردیتا ہے سواے مشرک اور کینہ پرور کے۔
مسند احمد کی ایک روایت میں قاتل کا بھی ذکر ہے۔ 2/176 بروایت عبداللہ بن عمرو۔

یہ حدیث جہاں اس بارے میں صریح ہے کہ اس مبارک ماہ میں مذکورہ دو یا تین قسم کے لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی وہیں بندوں کو اس طرف توجہ دلانا ہے کہ عموما ہر وقت اور خصوصا فضل والے اوقات میں کبائر اور نہ معاف ہونے والے گناہوں سے پرہیز کریں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث میں بھی اسی چیز کا بیان ہے:

تفتح أبواب الجنة يوم الإثنين ويوم الخميس فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا رجل كانت بينه وبين أخيه شحناء فيقال انظروا هذين حتى يصطلحا .الأدب المفرد:411، صحيح مسلم:2565، سنن ابوداود:4916، سنن الترمذي:2024، بروايت ابو هريرة.

ہر پیر اورجمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں – صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ بندوں کےنامہ اعمال پیش کئے جاتے ہیں—تو ہر اس بندے کو معاف کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو ،سوائے اس شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان دل میں ایک دوسرے کا کینہ ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: انہیں چھوڑدو حتی کہ وہ باہمی صلح کرلیں ۔

یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں دنوں کا بھی روزہ رکھتے تھے۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ:

أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصوم الاثنين والخميس . فقيل يا رسول الله إنك تصوم الاثنين والخميس ؟ فقال ( إن يوم الاثنين والخميس يغفر الله فيهما لكل مسلم . إلا متهاجرين . يقول دعهما حتى يصطلحا ) .
سنن ابن ماجة: 1739 الصيام.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ،تو آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ ضرور رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیر اور جمعرات کے دن ہر مسلمان کو بخش دیا جاتا ہے سوائے آپس میں جھگڑا کرنے والوں کے ، ان کے بارے میں کیا جاتا ہے: انہیں چھوڑدو حتی کہ باہمی صلح کرلیں ۔

3 —قرآن مجید کی تلاوت:

اس مبارک ماہ کے بعض وہ کام جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو ثابت نہیں ہیں البتہ سلف صالحین خصوصا صحابہ وتابعین سے اس کا ثبوت ملتاہے جیسے صدقہ وخیرات ،اور قرآن مجید کی تلاوت، حتی کہ عہد تابعین میں یہ مہینہ قاریوں اور حافظوں کا مہینہ کہلاتا تھا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شعبان کا مہینہ داخل ہوتا تو مسلمان قرآن پر پل پڑتے ، اس کی خوب تلاوت کرتے اور اپنے مالوں کی زکاۃ نکالتے تاکہ کمزور حال اور مسکین لوگ رمضان کے روزوں کی تیاری کرلیں۔ لطائف المعارف ص:258۔

ایک مشہور تابعی حبیب ابن ابی ثابت رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب شعبان کا مہینہ آتا تو وہ فرماتے: یہ قاریوں اور حافظوں کا مہینہ آگیا۔

ایک اور مشہور اور ولی الہی تابعی عمرو بن قیس رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب شعبان کا مہینہ داخل ہوتا تو وہ اپنی دکانیں بند کردیتے اور قرآن پڑگنے کے لئے فارغ ہو جاتے۔ لطائف المعارف ص158،159۔

شعبان کے مہینے میں کثرت صوم کی ایک حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ جسطرح فرض نمازوں سے قبل وبعد کچھ سنتیں ہیں اسی طرح فرض روزوں کے قبل وبعد شعبان و شوال کے روزے رکھے گئے ہیں۔

اس کی ایک حکمت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ رمضان میں روزے فرض اور تلاوت قرآن وصدقہ وخٰرات مسنون ہیں ،اب اگر اچانک یہ کام کرنے پڑیں تو انسان پر بھاری پڑیں گے کیونکہ نفس انسانی جس کام کا عادی نہیں ہوتا وہ کام اگر اچانک آپڑے تو اس پر عمل بھاری ہوتا ہےلیکن اگر انسان اسی کام کا عادی ہو تو اس پر عمل بھاری نہیں ہوتا، اسی لئےرمضان سے قبل شعبان کے مہینے میں بکثرت روزہ رکھنے کو مشروع قرار دیا گیا اور سلف قرآن تلاوت قرآن بکثرت اہتمام کرتے تھے تاکہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتو اس میں مکمل نشاط اور پوری تیاری سے داخل ہوں ۔

ایمان کی کمزوری کے بعد یہی سب سے اہم وجہ ہے کہ چونکہ عبادت کے کام پر ہماری تربیت اور مشق وتمرین نہیں ہے اس لئے ہمارے رمضان اور سلف کے رمضان میں بڑا واضح فرق نظر آتا ہےکہ پہلے اور دوسرے عشرے میں ہماری جو لگن رہتی ہے وہ آخری عشرے میں نہیں رہتی یعنی چونکہ ہم صیام وقیام کے عادی نہیں ہوتے لہذا بہت جلد اکتا جاتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسلف صالحین رمضان کے آخری میں زیادہ نشیط نظر آتے تھے ۔

اس ماہ کی بدعتیں۔ 

اس مبارک ماہ میں مسنون ومشروع کاموں کا یہ مختصر تعارف تھا جو امت کی زندگی سے آج مفقود نظر آتے ہیں اور اس کی جگہ متعدد قسم کی بدعتوں نے اپنا اڈا جما لیا ہے ،اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ کہ ان بدعتوں کی پشت پناہی بعض دنیا پرست علماء اور حکام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اس ماہ کی سنتوں کا علم تو نہیں ہے البتہ وہ انہیں بدعتوں کو سنت سمجھے ہوئے ہیں ۔
اس ماہ میں انجام دی جانے والی بعض مشہور بدعتیں یہ ہیں :
1— پندرہویں شب کو خصوصی عبادت،

2—پندرہویں تاریخ کا روزہ،

3— قبرستان کی زیارت ،

4- آتش بازی،

5- چراغاں،

6- حلوہ پوڑی ۔

یہ ہیں وہ مشہور بدعات جو اس ماہ میں انجام دی جاتی ہیں، ان تمام کی بنیاد یا تو ضعیف بلکہ سخت ضعیف حدیثوں پر ہے ، یا ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے یا پھر غیر قوموں کی مشابہت میں بھائیوں نے یہ بدعتیں ایجاد کر لی ہیں۔

1+2+3۔ ان تینوں بدعتوں کی بنیاد درج ذیل دو حدیثوں پر ہے۔

1—حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلو سے غائب پایا ،تلاش کیا تو آپ بقیع [ قبرستان] سے تشریف لا رہے تھے ، واپس آئے تو آپ نے فرمایا:

أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله ؟ قلت يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نساءك فقال إن الله عز و جل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيفغر لأكثر من عدد شعر غنم كلب.
سنن الترمذي: 739 الصوم، سنن ابن ماجة: 1389 الصلاة، مسند احمد6/238.

اے عائشہ کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول تمہارے ساتھ نا انصافی سے کام لیں گے [ کہ میں تمھاری باری میں کسی اوربیوی کے یہاں شب باشی کے لئے چلا جاوں گا،] میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ سمجھی کہ آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ایسی بات نہیں ہے ،[بلکہ حقیقت یہ ہےکہ] اللہ تبارک وتعالی نصف شعبان کی شب کو سمائے دنیا پر نازل ہوتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادکے برابر لوگوں کو بخش دیتا ہے۔

2—حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها) الحديث . سنن ابن ماجة: 1388 الصلاة.

جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس رات کا قیام کرو اور اس دن کا روزہ رکھو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں حدیثیں ناقابل استدلال ہیں ، جہاں تک پہلی حدیث کا تعلق ہے تو خود امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدث کو روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ۰۰۰اور میں نے محمد [ امام بخاری] سے سنا وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس حدیث کو عروۃ سے [ روایت کرنے والے راوی ] یحیی ابن ابی کثیر نے نہیں سنا ہے، اور نہ ہی یحیی بن ابی کثیرسے [ روایت کرنے والےراوی ] حجاج بن ارطاۃ نے ان سے سنا ہے۔
سنن الترمذی3/117۔

پھر جب حدیث اس قدر ضعیف ٹھہری تو اس سے اس شب قبر کی زیارت کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے۔

نیز اگر اس حدیث کو صحیح بھی مان لیں توبھی اس حدیث میں کہیں بھی یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کی خصوصیت کی وجہ سے بقیع یعنی قبرستان تشریف لے گئے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی صحابی کے بارے نہیں آتا کہ اس نے اس سنت پر عمل کیا ہو،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ بکثرت قبرستان کی زیارت فرمایا کرتے تھے ،جس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہوتا ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب کبھی بھی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی میرے یہاں شب باشی کی باری ہوتی تھی تو آپ رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور یہ دعا پڑھتے:

السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء الله بكم لاحقون اللهم اغفر لأهل بقيع الغرقد.صحيح مسلم:974 الجنائز ،سنن النسائي:2039 الجنائز .

ذرا سوچنے کی بات ہے کہ قبروں کی زیارت سنت موکدہ اور پورے سال کی سنت ہے ، اس کے لئے کسی وقت تخصیص نہیں ہے لیکن پورے سال دن کے وقت بھی قبروں کے زیارت کی توفیق نہیں ہوتی اور شعبان کا مہینہ آتا ہے تو رات میں قبروں کی زیارت کے لئے بڑے اہتمام سے جاتے ہیں ، یہ عمل سنت نبوی اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کے عمل سراسر خلاف ہے اور بدعت ہے ۔

اورجہاں تک دوسری حدیث کا تعلق ہے جسے بنیاد بنا کر لوگ اس دن کا روزہ رکھتے اور اس شب کو جاگتے اوراسے عبادت کے لئے خاص کرتے ہیں تو واضح رہے کہ یہ حدیث باتفاق علما سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے، کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوسبرہ ہے جو حدیثیں گھڑ کر بیان کرتا تھا۔
دیکھئے مصباح الزجاجہ للبوصیری 1/247خ الضعیفہ للالبانی رقم:2132َ۔

کچھ لوگ اس رات جلسہ وجلوس وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں ، اور کچھ لوگ اجتماعی ذکر واذکار میں مشغول رہتے ہیں ، یہ سارے کام سنت کے خلاف ہیں ۔

نماز خیر ۔

کچھ لوگ اس رات میں ایک خاص قسم کی نماز پڑھتے ہیں جسے نماز خیر کہتے ہیں ، جس کی دو کیفیت بیان کی جاتی ہے ، اول یہ کہ سو رکعت نماز پڑھے اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد گیارہ بار “قل ہو اللہ احد”پڑھے، دوم یہ کہ دس رکعت نماز پڑھے اور ہر رکعت میں سو بار” قل ہو اللہ احد” پڑھے ۔ اس نماز کا ثواب یہ بتایا جاتا ہے کہ جو شخص اس رات کو یہ نماز پڑھے گا اللہ تعالی اس کی طرف سو بار نظر رحمت سے دیکھے گا اور ہر نظر کے عوض اس کی ستر ضرورتوں کو پوری کری گا ، جس میں سے سب سے ہلکی درجے کی ضرورت تمام گناہوں کی معافی ہے۔

اس حدیث کے باطل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حدیث کی کسی بھی کتاب میں اس کا وجود نہیں ہے بلکہ احیا العلوم2/175 جو من گڑت اور جھتی حدیثوں کا مجموعہ اس میں یہ حدیث موجود ہے اور وہیں بدعت ایجاد کرنے والے حضرات نے لیا ہے۔اس حدیث سے متعلق حافظ عراقی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث باطل ہے ۔

حاشیہ احیا العلوم2/175،۔ نیز امام ابوشامہ مقدسی لکھتے ہیں : اس حدیث کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔البدع ص:56۔

ایک شبہہ۔

کسی کو یہاں شبہہ ہو سکتا ہے کہ اس رات کی فضیلت میں واردبعض حدیثوں کو بعض علما نے صحیح قرار دیا ہے ، لہذا اس میں بیدار رہکر عبادت کرنا ایک مسنون عمل ہوگا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ کسی دن یا رات کا افضل ہونا اور بات ہے اور اسے عبادت کے لئے خاص کرنا بالکل جدا مسالہ ہے، کیونکہ کسی دن یارات کے افضل ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس دن کوئی ایسی عبادت کی جائے جو شریعت سے ثابت نہیں ہے، جیسے جمعہ کی رات اور دن اور یوم النحرکا افضل ہونا بلا شبہہ ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن اس دن روزہ رکھنا ان راتوں میں جاگ کر عبادت کرناجائز نہیں ہے، اور یقینا یہی وجہ ہوگی کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے اس رات میں کسی بھی قسم کی عبادت ژابت نہیں ہے۔

4+5-آتش بازی اور چراغاں۔

ماہ شعبان کی یہ بدعت بہت عام ہے، اس کی ایجاد ہندووں اور مجوسیوں کی تقلید ہے،کیونکہ ہندووں کا ایک تہوار دیوالی ہے ، جس موقعہ پر وہ اپنے گھروں ، گلی کوچوں، اور اپنے کھیتوں تک میں چراغاں کرتے ہیں ، مزید یہ کہ وہ اس دن اپنے گھروں کا لیپ اور صفائی وغیرہ کابھی اہتمام کرتے ہیں حتی کہ اس دن ہندو اپنے گھروں کے برتن وغیرہ بھی تبدیل کرتے ہیں اور یہ سب کام پرکھوں کی روحوں کو خوش کرنے کے نام پر ہوتا ہے ، ہندووں کی مشابہت میں جاہل مسلمانوں نے بھی سال کے ایک دن میں بعینہ یہی سب کام کرنے شروع کردیا۔

ہندستان سے باہر یہ بدعت مجوسیوں کی تقلید میں ایجاد ہوئی ہے، چنانچہ ایک شامی عالم امام ابوشامہ مقدسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:بدعتیوں نے دین میں جو نیا کام ایجاد کرکے حدود شرع سے تجاوز کیا ، مجوسیوں کے راستے پر چل پڑے اوران کا دین کھیل تماشا بن کر رہ گیا، ان میں سے ایک کام شعبان کی پندرہویں شب کو چراغاں کرنا ہے، اس بارے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کا موجد دین کا دشمن اور مجوسیوں کا ہمنوا ہے ، کیونکہ آگ مجوسیوں کا معبود ہے ، اسلام میں اس بدعت کے اصل موجد برامکہ ہیں جو اصل میں مجوسی تھے اور مسلمان ہونے کے بعد بھی انہوں نے اسے جاری رکھا، تاکہ ان کے باطل مذہب کی تایید ہو سکے، یعنی جب نماز پڑھیں یا سجدہ کریں تو ان کا رخ آگ کی طرف رہے ، وہیں سے یہ بدعت مسلمانوں میں شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ اس قدر عام ہو گئی کہ مسلمان اسے دین سمجھنے لگے۔
البدع والحوادث ص:53۔

6- حلوہ اور پوڑی۔

عورتوں اور بچوں میں اس ماہ کی سب سے مشہور ومرغوب بدعت حلوہ ہے ،بلکہ شعبان کا نام آتے ہی حلوہ کا تصور ذہن میں دوڑ جاتا ہے ،گویا حلوہ اور شعبان لازم وملزوم ہیں، یہ بدعت اس قدر عام ہے کہ عید کی سویاں بھی اس کے سامنے پھیل ہیں ، حتی کہ بعض جاہل عورتیں اسے اس قدر ضروری سمجھتی ہیں کہ اس کے انتظام کے لئے اپنے زیور تک گروی رکھ دیتی ہیں ۔

یہ بدعت بھی ہندووں کی تقلید میں ایجاد ہوئی ہے، جس طرح ہندو دیوالی کے موقعہ پر حلوہ پوڑی کا اہتمام کرتے ہیں، اسی طرح مسلمان شعبان کے ماہ میں اس کا اہتمام کرنے لگے، جس طرح دیوالی کے موقعہ پر ہندو اچھے سے اچھا کھانا پکا کر اپنے گھروں میں ترتیب سے رکھ دیتے ہیں اور اسے مردوں یا پرکھون کا کھانا کہتے ہیں ،ان کے عقیدے کے مطابق اس دن پرکھوں کی روحیں آتی ہیں اور یہ سب دیکھ کر خوش ہوتی ہیں ، اسے کھاتی ہیں ، اس طرح ان کی بخشش ہو جاتی ہیں اور وہ مردوں کی جماعت میں شامل ہو جاتی ہیں ، اسی طرح مسلمان بھی اس دن حلوہ اور چپاتی وغیرہ پر فاتحہ دیتے ہیں اور اسے بزرگوں کا کھانا کہتے ہیں۔

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق