ہفتہ واری دروس

پیشین گوئی

حديث نمبر : 51

بتاریخ : 25/26 رجب 1429ھ م: 29/ 28جولائی 2008

عن عدي بن حاتم t يقول : كنت عند رسول الله r فجاءه رجلان : أحدهما يشكوا العيلة والآخر يشكو قطع السبيل و فقال رسول الله r : أما قطع السبيل فإنه لا يأتي عليك إلا قليل حتى تخرج العير إلى مكة بغير خفير ، وأما العيلة فإن الساعة لا تقوم حتى يطوف أحدكم بصدقة لا يجد من يقبلها منه ، ثم ليقفن أحدكم بين يدي الله ليس بينه وبين حجاب ترجمان يرجم له ، ثم ليقولن له : ألم أوتك مالا ؟ فليقولن : بلى ثم ليقولن : ألم أرسل إليك رسولا ؟ فليقولن : بلى فينظر عن يمينه فلا يرى إلا النار فليتقين أحدكم النار ولو بشق تمرة فإن لم يجد فبكلمه طيبة .

( صحيح البخاري : 1413 ، الزكاة / صحيح مسلم : 1016 ، الزكاة )

ترجمہ : حضرت عدی بن حاتم t سے روایت ہیکہ میں اللہ کے رسول r کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس دو شخص آئے ، ایک شخص غربت اور دوسرا راستے کی بدامنی کی شکایت کررہا تھا ، آپ r نے [ بدامنی کی شکایت کرنے والے سے] فرمایا جہاں تک راستے کی بدامنی کا تعلق ہے تو اس سے پریشان نہ ہو تمہارے اوپر ابھی تھوڑی ہی مدت گزرےگی اور تم دیکھ لوگے قافلہ مکہ مکرمہ تک بغیر کسی محافظ کے سفر کریگا ، اور [ فقر وفاقہ کی شکایت کرنے والے سے فرمایا ] جہاں تک فقر وفاقہ کا تعلق ہے تو یاد رکھو کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی ،یہاں تک کہ ایک شخص اپنا صدقہ لیکر باہر نکلے گا اور کسی قبول کرنے والے کو نہ پائے گا ، پھر وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ تم میں کا ہر شخص کا اللہ تعالی کے سامنے ہم کلامی کیلئے کھڑا ہوگا ، اسکے اور رب کے درمیان کوئی حجاب ہوگا اور نہ کوئی ترجمان جو اسکی ترجمانی کرے ، پھر اللہ تعالی اس سے کہے گا : کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا ؟ وہ جواب دیگا : ہاں ، اے میرے رب آپ نے ضرور دیا تھا ، اللہ تبارک وتعالی پھر سوال کریگا : کیا تیری طرف ہم نے اپنا رسول نہیں بھیجا تھا ؟ وہ جواب دیگا اے رب آپ نے ضرور بھیجا تھا ، چنانچہ وہ شخص اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو صرف جہنم کی آگ ہوگی اور جب بائیں جانب دیکھے گا تو وہاں بھی جہنم کی آگ ہوگی اسلئے تم لوگ اس آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک تکڑے ہی کے ذریعہ ہو ، اگر وہ بھی نہ مل سکے تو اچھی بات ہی کہکر اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاو ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوائد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت عدی بن حاتم t کی روایت کردہ یہ عظیم حدیث نبوی rاپنے اندر بہت سے فوائد وعبر لئے ہوئے ہیں جنمیں سے بعض درج ذیل ہیں :

[۱] ہر سختی کے بعد آسانی : اس دنیا میں کوئی ایسی مصیبت نہیں ہے جسکی انتہا نہ ہو ، کوئی ایسی پریشانی نہیں ہے جو ختم ہونے والی نہ ہو ، اسلئے ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ صبر واحتساب سے کام لے ، اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھے اور اس آیت کریمہ کو اپنے سامنے رکھے ” ان مع العسر یسرا ”

آپ r کا معجزہ کہ آپ نے جیسا بتلایا تھا ویسے ہی ہوا چنانچہ حضرت عدی t نے خود ہی دیکھا کہ ایک عورت حضر موت سے تن تنہا چل کر مکہ مکرمہ تک کا سفر کرتی ہے اور اسے کوئی چھیڑنے والا نہیں ملتا اور حضرت عمر بن عبد العزیز کے زمانے میں لوگ اس قدر غنی ہوگئے تھے کہ کوئی صدقہ قبول کرنے والا نہ ملتا تھا ۔

۲ – عام انسانیت پر خصوصا عرب پر نبی کریم r کی رحمت کہ آپ کی آمد کے بعد ان لوگوں غربت مالداری ، خوف امن اور دشمنی بھائی چارگی میں بدل گئی ۔

۳-قیامت کے دن کی ہولناکی اور اللہ تعالی کے سامنے مقام کی سختی ۔

۴- ہر شخص اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہوگا جیساکہ نبی r کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کسی بھی شخص کا قدم اپنی جگہ سے مل نہیں سکتا یہاں تک پانچ سوالوں کا وہ جواب دے لے : ۱۔ عمر کن کاموں میں صرف کی ، ۲- جو علم سیکھا اسکے مطابق کہاں تک عمل کیا ، ۳- مال کہاں سے کمایا ، ۴- اور کہاں خرچ کیا ، ۵- جوانی کہاں صرف کی [ ترمذی و مستدرک حاکم ]

۵- جہنم سے نجات عمل صالح کے ذریعہ ہی مل سکتی ہے :سچ فرمایا اللہ تعالی : مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ جو شخص نیکی لیکر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اُس روز) گھبراہٹ سے بیخوف ہوں گے وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ …اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ تم کو تو اُن ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو

6- نبی r کی آمد وبعثت کائنات کیلئے رحمت ۔

1- صدقہ وخیرات جہنم کی آگ سے بچاو کا بہترین ذریعہ ہے ۔

2- صدق نیت سے کیا گیا معمولی صدقہ بھی جہنم سے نجات کا سبب بنتا ہے ،

:::کتنی بھی چھوٹی ہو نیکی تو اسے ہلکی نہ جان ::: رب کی بخشش کیلئے کوئی بہانہ چاہئے :::

3- خوش گفتاری ، لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور اچھی باتوں کا حکم دینا بھی جہنم سے نجات کا سبب ہے ۔

4-وہ اعمال جنکا نفع دوسروں تک پہنچتا ہے ان کا خصوصی اہتمام کیونکہ وہ جہنم سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق