و لنٹائن ڈے Valentine Day

بسم اللہ الرحمن الرحیم

و لنٹائن ڈے Valentine Day

ولنٹائن ڈے کیاہے : ” عید الحب ” یا ولنٹائن ڈے ” ایک خالص رومی عید ہے جسکی ابتداء سے متعلق کوئی تحقیقی بات کہنا ایک مشکل امر ہے ، البتہ اس عید سے متعلقہ کتابوں اور مقالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اسکی ابتداء تقریبا 1700 سال قبل ہوئی ہے ، اس وقت یہ ایک مشرکانہ عید تھی کیونکہ اہل روم کے نزدیک 14، فروری کا دن چونکہ ” یونو ” دیوی کے نزدیک مقدس تھا اور ” یونو” کو عورتوں اور شادی بیاہ کی دیوی کہا جاتا تھا اس لئے رومیوں نے اس دن کو عید کا دن ٹھہرالیا ، بعد میں اس موقعہ پر ایک حادثہ پیش آیا جسکی وجہ سے یہ دن عشقیہ ، فحش اور غیر شرعی تعلقات رکھنے والوں کی عید بن گیا، کہا جاتا ہے کہ تیسری صدی میں رومی بادشاہ کلاوڈیوس کو اپنے مخالف کے خلاف فوج کشی کی ضرورت پڑی جس کے لئے اس نے فوج میں بھرتیاں شروع کی تو لوگوں کی رغبت نہ دیکھی ، وجہ معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ لوگوںکی اپنے اہل وعیال اور خصوصا بیویوں کی طرف رغبت زیادہ ہے .لہذا اس نے شادی کی رسم کو ختم کرنے کا اعلان کیا ، لیکن ایک پادری جسکا نام ولنٹائن تھا اس نے اس حکم کی مخالفت کی اور چھپ چھپا کر نکا ح پڑھاتا رہا، بادشاہ کو اطلاع ملی تو اس نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، جیل ہی میں پادری پر جیلر کی لڑکی عاشق ہوگئی لیکن معاشقہ مکمل نہ ہوپایا کہ پادری کو سولی پر لٹکا دیاگیا .یہ واقعہ 14فروری 279 ئ کا بتلایا جاتا ہے ،اسی مناسبت سے ہر سال چودہ فروری کو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ جوڑے یہ عید مناتے ہیں ، جس میں اپنی محبت کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں ۔

اس عید میں کیا ہوتا ہے ؟

(١) ایسی خوشیوں کا اظہار ہوتا ہے گویا کہ یہ کوئی شرعی اور ہم مسلمانوں کی خاص عید ہے ۔

(٢) عشق ومحبت کے اظہار وتجدید کے لئے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس عید کی مناسبت سے کارڈ کا تحفہ ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں ، بساأوقات اس کارڈ پر “Be my Valentine” لکھا ہوتا ہے یعنی میرے والنٹائن ( محبوب ) بنو ۔

(٣) دونوں جنس ایک دوسرے کو پھولوں کا ہار یا گلدستہ پیش کرتے ہیں ، اس موقعہ پر اس کثرت سے پھول بکتے ہیں کہ ایک سروے کے مطابق دنیا میں پھولوں کا چالیس فیصد حصہ اسی مقصد کیلئے استعمال ہوتاہے ، حالانکہ اگر حقیقی محبت مفقود ہو تو اسے پھولوں کے ہاروں سے واپس نہیں لا یا جاسکتا ۔

(٤) دونوں جنس ایک دوسرے کو ایسا کارڈ پیش کرتے ہیں جس پر یونانیوں کے عقیدے کے مطابق محبت کے خدا Cupid کی تصویر بنی ہوتی ہے اسکی شکل کچھ اسطرح ہوتی ہے کہ ایک لڑکا ہے جسکے دو پر ہیں ،اسکے ہاتھ میں تیر وکمان ہے اور وہ تیر کو محبوبہ کے دل میں پیوست کررہا ہے ۔

(٥) دونوں جنس اور عمومی طور پر غیر محرم لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو چاکلیٹ اور مٹھائیوں کا پیکٹ بطور ہدیہ پیش کرکے اپنی محبت وعشق کا اظہار کرتے ہیں ۔

(٦) مغربی ممالک کی تقلید میں بعض مشرقی ممالک اس موقعہ پر خصوصی اجتماع کا اہتما م کرتے ہیں جس میں مرد وعورت کا اختلاط اور ایسے حیا سوز فواحش ومنکرات کا ارتکاب ہوتاہے جسکی مثال صرف حیوانوں کے یہاں دیکھی جاسکتی ہے ۔

(٧) نوجوان لڑکے لڑکیاں خوب شوخ سرخ لباس، بلکہ زیب تن کئے جانے والی تمام چیزیں سرخ استعمال کرتے ہیں ، حالانکہ شرعی طور پر مردوں کیلئے شوخ سرخ لباس منع ہے ۔

شریعت اسلامیہ کا اس بارے میں موقف : حضرت أبو سعید خدری روایت ہے کہ اللہ کے رسول ۖ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی قدم بقدم پیروی کروگے ، اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہونگے تو تم لوگ اس میں بھی داخل ہونے کی کوشش کروگے ، آپ ۖسے پوچھا گیا کہ پہلی قوم سے آپ کی مراد یہود ونصاری ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )

٭٭٭ اس حدیث میں نبی کریم ۖ نے یہ خبر دی ہے کہ امت محمدیہ کے کچھ لوگ ہر برے اور خلاف شرع کام میں یہود ونصاری کے نقش قدم پر چلیں گے اور بغیر کچھ سوچے سمجھے انکی تقلید میں مبتلا ہوجائیں گے، حتی کہ غلیظ سے غلیظ کام میں بھی وہ ان منحوس وملعون قوموں کے نقش قدم کو اپنا ئیں گے ، چنانچہ آپ ۖ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر یہود ونصاری میں کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جو اپنی ماں کے ساتھ کھلے عام بدفعلی کریگا تو اس امت میں بھی ایسے نالائق اور بے غیرت لوگ پیدا ہونگے ۔

( الحاکم ، ص: ١٢٩ ، ج: ١ ، ص: ٤٥٥ ، ج: ٥ )

یہ حدیث بطور خبر کے نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول ۖ اپنی امت کو یہود ونصاری کی تقلید میں پڑنے سے خبردار اور ان کی مشابہت سے دور رہنے کی دعوت دے رہے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ کا ایک بہت بڑا طبقہ اس میں گرفتا ر نظر آتا ہے ، آج یہود ونصاری کے متعدد اخلاق وعادات اور طور طریقے ان میں گھس آئے ہیں جو اسلامی اخلاق وعادات بلکہ مسلمانوں کے دین وصحت پر کھلی یلغار ہیں ، خاص کر نوجوان لڑکے لڑکیوں اور بالأخص اسکول وکالج کے طالب علموں کی ایک بڑی جماعت اس میں ملوث ہے ۔

انہیں امور میں ایک چیز ” عید الحب ” عید عاشقاں ، یوم عاشقاں ، یا ولنٹائن ڈے ، بھی ہے ماضی قریب تک مسلمانوں بلکہ اس علاقے کے غیر مسلموں میں اس عید کا نام تک معروف نہ تھا ، لیکن سائنسی، اقتصادی اور سیاسی میدان میں اہل مشرق کی کمزوری نے انہیں معاشرت میں بھی مغرب کا تابع بنا دیا ہے ۔

میری گزشتہ تحریر سے ہر صاحب بصیرت یہ اندازہ لگا سکتاہے کہ عید الحب ،عید عاشقاں یا ولنٹائن ڈے منانا شرعی طور پر جائز نہیں ہے بلکہ بسا اوقات کفر تک پہنچا دیتا ہے جسکی وجوہات درج ذیل ہیں :

(١) یہ ایک شرکیہ عید اور بت پرست قوم کی عید ہے جس میں محبت جیسی قلبی عبادت کا اظہار غیراللہ کیلئے کیا گیا ہے ۔

(٢) یہ عید ابتداء وانتہاء نصاری کی عید ہے اور علمائے اسلام کا متفقہ فتوی ہے کہ مسلمانوں کیلئے غیر مسلموں کی عیدوں میں شرکت ومشارکت جائز نہیں ہے ، اگر وہ عید شرکیہ امور سے متعلق ہوئی تواس میں برضا ورغبت شرکت انسان کو کفر اور ارتداد تک پہنچا دیتی ہے ،جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اقتضاء الصراط المستقیم ، امام ذہبی رحمہ اللہ تشبیہ الخسیس اور امام ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ نے البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں اسکی صراحت کی ہے ،حتی کہ امام ابن نجیم لکھتے ہیں کہ مجوسیوں کے نیروز میں نکلنے ( نیروز مجوسیوں کی عید ہے ) اور اس دن جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ کام کرنے سے ( کافر ہوجائیگا ) …..

( البحر الرائق ص: ٤٥٧ ، ج: ١)

(٣)عید الحب کو منانا اور قبول کرنا غیر قوم کی مشابہت ہے اور غیر قوم کی مشابہت کو قرآن وحدیث میں صراحت کے ساتھ حرام قرار دیا گیا ہے ، بلکہ مشابہت کی بعض صورتیں کفر ہیں ارشاد باری تعالی ہے : ثم جعلناک علی شریعة من الأمر فاتبعھا ولا تتبع أھواء الذین لا یعلمون ( الجاثیة : ١٨ )

پھر ہم نے آپ کو دین کی صحیح راہ پر قائم کردیا ، اس لئے آپ اس پر جمے رہیں اور نادان لوگوں کی خواہش کی پیروی میں نہ پڑیں ۔

اللہ کے رسول ۖ کا ارشاد ہے کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے ( سنن ابودائود : ٤٠٣١ ) ،

ایک اور حدیث میں اللہ کے رسول ۖ کاارشاد ہے : وہ ہم میں سے نہیں ہے جو غیروں کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔

( سنن الترمذی : ٢٦٩٥ )

(٤) اس عید کے موقعہ پر جس محبت کا اظہار کیا جاتا ہے عمومی طور پر وہ غیر محرم خواہ مرد ہو یا عورت کے ساتھ عشق وغرام کی محبت ہوتی ہے جسے شریعت نے جملة وتفصیلا حرام قرار دیا ہے کیونکہ اسکا نتیجہ زنا وفواحش اور والدین سے اولاد کی بغاوت کی صورت میںظاہر ہوتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ا یٹلی کی حکومت نے اس عید کو 1969ئ میں غیر قانونی قرار دیا تھا ، اور اگر کچھ لوگ اسے میاں بیوی تک محدود رکھتے ہیں تو اولا انکی تعداد کم ہے ،ثانیا اگرمیاں بیوی میں حقیقی اور شرعی محبت نہ ہوگی تو اسے پھول کے ہاروں اور چاکلیٹ کے پیکیٹوں سے نہیں خرید ا جاسکتا ۔

(٥) Cupid کی تصویراور اسکا مجسمہ پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا ہدیہ وتحفہ پیش کرنے والا دانستہ ونادانستہ رومیوں کے اس عقیدے کو قبول کررہا ہے کہ محبت کا خدا اور ہے اور دنیا کو پیدا کرنے والارب اورہے ، جبکہ یہ کھلا ہوا شرک ہے جو ذات باری تعالی کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔

(٦) علماء اسلام کا متفقہ فتوی ہے کہ عید الحب یا ولنٹائن ڈے منانا ، ناجائز وحرام ہے، چنانچہ سعودی عرب کی فتوی کمیٹی نے اپنے ایک طویل فتوے میں اس عید میں شرکت ، اسکے اقرار ، اس موقعہ پر مبارکبادی اور اسمیں کسی بھی قسم کے تعاون کو حرام قرار دیا ہے ۔

( فتوی نمبر : ٢١٢٠٣ بتاریخ : ٢٣/١١/ ١٤٢٠ھ )

اس لئے ہر غیرت مند مسلمان کو یہ پیغام ہے کہ وہ اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہے اور اس ثبات پر عزت وفخر محسوس کرے ، غیر قوموں کی مشابہت میں پڑنے سے بچے ،انکی عیدوں میں شرکت ، انکی عیدوں کو اپنے ملکوں میں رواج دینے اور کافروں کی شرکیہ وبدعیہ عیدوں کے موقعہ پر انہیں تحفہ تحائف اور مبارکباد پیش کرکے اپنے دین کو برباد نہ کرے اور یہ یقین رکھے کہ وللہ العزة ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنافقین لا یعلمون .. …. عزت اللہ کیلئے ہے ، اسکے رسول کیلئے ہے اور مومنوں کیلئے ہے ، لیکن یہ منافق اس حقیقت کو نہیں جان سکتے ۔

وماعلینا لا البلاغ وعلی اللہ التکلان وصلی اللہ علی نبینا محمد ۖ

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى