ہفتہ واری دروس

خوشگوار زندگي کے تين اصول

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حديث نمبر125

خلاصہء درس : شيخ ابوکليم فيضي الغاط

عن ابی ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ قال : جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: عظنی واوجزاذا قمت فی صلاتک فصل صلاۃ مودع ولا تکلم بکلام تعتذر منہ واجمع الیاس مما فی ایدی الناس ۔

{ مسند احمد: ج5ص412 ۔ سنن ابن ماجہ :4171 الزھد }

ترجمہ : حضرت ابو ایوب انصا ری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرضپرداز ہوا : اے اللہ کے رسول ” مجھے کوئی نصیحت کیجئے اور مختصر کیجئے ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو کہ گویا تمھاری آخری نماز ہے ، اور کوئی ایسی بات نہ بولو جس سے کل معذرت کرنی پڑے ، اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے پوری طرح مایوس ہوجاوَ۔

{مسند احمد ، سنن ابن ماجہ }

ورق الٹئے:1/2

تشریح : نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے جن خصوصیا ت سے نوازا تھا ان میں ایک خصوصیت جوامع الکلم ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم

– فداہ ابی وامی- مختصر سی عبارت میں معانی کا ایک سمندر پھر دیتے تھے اور سائل کے سوال کا جواب ایسے مختصر اور جامع الفاظ میں دیتے تھے کہ عموما اسے دوبارہ سوال کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی تھی ۔ انہیں جامع اور مختصر جوابوں میں سے ایک جواب زیر بحث حدیث میں بھی مروی ہے ، چنانچہ جب ایک صحابی آپ سے کچھ مختصر نصیحتی کلمات چاہتے ہیں تو اسکے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین ایسی نصیحتیں فرماتے ہیں کہ انسان کی تمام کامیابی اور سعادت مندی کے اصوک اسمیں بھر دئے کہ اگر کوئی بندہ انکا اہتمام کر لے تو اسکے معاملا ت تمام ہوں اور وہ کام یاب ہو جائے ۔

1 : نمازکیلئے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو گویا یہ تمھاری آخری نماز ہے :

چونکہ نماز مسلمان پر سب سے پہلا اور اہم فرض ہے اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی سے متعلق سوال ہوگا ، اگر نماز درست نکلی تو اسکے دیگر اعمال کا حساب آسان ہوگا اور اگر نماز ہی کا معاملہ بگڑ گیا تو باقی دیگر اعمال کا انجام اور بھی برا ہو گا ، اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو حکم دیا کہ نماز کو مکمل طور پر ادا کرے ، اسے اچھے طریقےسے ادا کرنے کی پوری کوشش کرے اور ہر نماز پڑھتے وقت اپنا محاسبہ کرے کہ کیا اسکی تمام شرطوں ، فرضوں حتی کہ سنتوں کو پوراکررہا ہے ، کیا اسکی یہ کیفیت ہے کہ جس کے سامنے وہ کھڑا ہو رہا ہے وہ اسے گویا نظر آرہا ہے ، اگر نہیں تو یہ احساس ضرور رہے کہ وہ ذات اسے دیکھ رہی ہے ، وہ جو الفاظ ذکر و تلاوت و دعا اپنی زبان سے ادا کررہا ہے انکی ادائیگی کے وقت اسے احساس ہے کہ ان الفاظ میں وہ کسسےمخاطب ہے ؟ وہ اپنے قیام ، رکوع وسجود بلکہ ہر حرکت میں حق تعالی کے سامنے خشوع و خضوع کا اظہار کرہا ہے ؟ ظاہر بات ہے کہ اگر اسکی یہ کیفیت رہی تو اسکی نماز ضرور شرف قبولیت سے مشرف ہوگی اور بندگی کا مقصد ادا ہو گا ، بندے کی یہ کیفیت کب ہوگی اور یہ جذبات بندوں کے اندر کیسے پیدا ہوں گے،اسی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی طرف بھی اشارہ فرمایا دیا : یعنی بندہ یہ سوچ لے کہ شاید یہ میری آخری نماز ہو ، بہت ممکن ہے کہ اسکے بعد اب مجھے دوسری نماز پڑھنے کا موقع نہ مل سکے ، پھر جب بندے کو یہ احساس ہو جائے گا تو لا محالہ اسکی نماز ظاہری وباطنی حسن سے ہمکنار ہوگی ، یہی وہ نماز ہوگی جو بندے کو ہر برائی سے روکے گی اور ہر عمل خیر پر ابھارے گی نتیجۃ اسکا دل نور ایمان سے منور اور ایمان کی چاشنی سے لذت اندوز ہو گا ۔

2 : آج کوئی ایسی بات نہ کہو جس سے کل معذرت کرنی پڑے :

مقصد یہ کہ انسان اپنی زبان کی حفاظت کرے ، اس سے کیا ادا کر رہا ہےاس پرغور کرے کیونکہ زبان ہی پر انسان کے دوسرے اعضاء کی درستگی اور انکے معاملات کا دارومدار ہے ، چناچہ جب بندہ نے اپنی زبان پر کا بوپالیا تو دیگر تمام اعضاپر کابوپانا آسان ہے ، نبیصلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ جب انسان صبح کرتا ہے تو اسکے جسم کے تمام اعضا ء زبان سے نہا یت عاجزی سے عرض کرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں اللہ تعالی ڈرتے رہنا ، اسلئے کہ ہمارا معاملہ تیرے ساتھ وابستہ ہے ، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور تو بگڑ گئی تو ہم بھی بگڑ جائیں گے

{سنن الترمذی بروایت ابو سعید }

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بڑے بلیغانہ انداز میں زبان کی حفاظت کی نصیحت فرمائی اسلئے کہ جب انسان اپنی زبان پر قابوپاگیا تو گویا تمام اعضاء اسکے قبضے میں آگئے لیکن اگر اسکی زبان اس پر قابوپاگئی اور نامناسب باتیں اس سے نکلتی رہیں تو اسکی دنیا وآخرت بگڑسکتے ہیں اور پورے جسم کو اسکی سزابھگتنی پڑے گی ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ کہ جس پر تجھے شرمندہ ہونا پڑے اور لوگوں سے معذرت کرنی پڑے کیونکہ ایسا ہوا تو گویا تو اپنی زبان کا غلام ہے اور بہت ممکن ہے کہ اسکی وجہ سے تمہیں ایسا نقصان اٹھانا پڑے جسکی تلافی ناممکن ہو ۔

3 : لوگوں کے پاس جو کچھ بھی ہے اس سے مایوس ہو جاوَ :

اس جملے میں بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بندے کی توجہ اس طرف دلائی کہ تمام دینی ودنیوی معاملات میں اسکا تعلق اللہ تعالی سے جڑا رہنا چا ہئے ، مانگے تو صرف اللہ تعالی سے مانگے ، امید رکھے تو صرف فضل الہی کی امید رکھے اور اسکے بر خلاف لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے مکمل مایوس ہو جائے ، اسلئے کہ جو شخص لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے لاتعلقی اور لاپرواہی ظاہر کرے گا وہ ان سے مستغنی ہوجائے گا ، اسے چاہئے کہ وہ جسطرح اپنی زبان سے اللہ تعالی ہی سے مانگتا ہے اسی طرح اپنے دل کو اللہ تعالی ہی سے لگائے رکھے ، اسی کا حقیقی بندہ بنکررہے مخلوق کی عبودیت سے مکمل چھٹکارا حاصل کرے تا کہ عزت وشرف اسے حاصل ہو کیونکہ مخلوق سے امید رکھنا ذلت ورسوائی اور خالق سے تعلق عزت وشرف ہے ۔

فائدے :

1 : آخرت کی کامیابی یہ ہے کہ انسان کی نماز درست اور سنت کے مطابق ہو ۔

2 : بات کرتے وقت اسکے نتائج پر غور کرلینا چاہئے ۔

3 : لوگوں سے بے نیازی اور خالق سے نیاز مندی خشگوار زندگی کا بہترین نسخہ ہے ۔

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق