ہفتہ واری دروس

روئے زمین کا بہتر ین کام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :138

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : خيركم من تعلم القرآن وعلمه .

( صحيح البخاري :5027 ، فضائل القرآن- سنن أبو داؤد : 1452 ، الصلاة – سنن الترمذي :2909 ، فضائل القرآن )

ترجمہ : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔

{ صحیح بخاری و سنن ابو داود ، سنن الترمذی }

تشریح : قرآن مجید کی بے انتہا عظمت کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور باری تعالی کی حقیقی صفت ہے ، واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے یہاں تک کہ زمینی مخلوقات میں کعبۃ اللہ اور انبیاء علیہم السلام کی مقدس ہستیاں اور عالم بالا و عالم غیب کی مخلوقات میں عرش ، کرسی لوح و قلم ، جنت اور جنت کی نعمتیں اور اللہ تعالی کے مقرب ترین فرشتے ، یہ سب اپنی معلوم ومسلم عظمت کے باوجود غیر اللہ اور مخلوق ہیں لیکن قرآن مجید اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی اور اس سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے ، یہ اللہ پاک کا بے انتہا کرم اور اس کی عظیم ترین نعمت ہے کہ اس نے اپنے رسول امین کے ذریعہ وہ کلام ہم تک پہنچایا اور ہمیں اس لائق بنایا کہ اس کی تلاوت کرسکیں اور اپنی زبان سے اس کو پڑھ سکیں ، پھر اس کو سمجھ کر اپنی زندگی کا رہنما بنا سکیں ، قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالی نے طوی کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسی علیہ السلام کو اپنا کلام سنوایا تھا ، کتنا خوش قسمت تھا وہ بے جان درخت جس کو حق تعالی نے اپنا کلام سنوانے کے لئے بطور آلہ کے استعمال فرمایا تھا ، جو بندہ اخلاص و عظمت و احترام کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجرہٴ موسوی والا یہ شرف نصیب ہوتا ہے اور گویا وہ اس وقت اللہ تعالی کے کلام مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے ، حق یہ ہے کہ انسان اس سے آگے کسی شرف کا تصور بھی نہیں کرسکتا ” ۔

زیر بحث حدیث میں قرآن کی تعلیم وتعلم کا اہتمام کرنے والے کو سب سے بہتر و افضل بندہ قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ اللہ تعالی کا کلام ہے اور جس طرح اللہ تعالی کو اپنی مخلوق پر عظمت و فضیلت حاصل ہے اسی طرح اللہ تعالی کے کلام کو مخلوق کے کلام پر عظمت و فضیلت حاصل ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا سیکھنا سکھا نا دوسرے تمام اچھے کاموں سے افضل و اشرف ہوگا ، علاوہ ازیں یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے اہم پیغمبرانہ وظیفہ وحی کے ذریعہ قرآن مجید کو اللہ تعالی سے لینا ، اس کی حکمت کو سمجھانا اور دوسروں تک اس کو پہنچانا اور اس کو سکھانا تھا ، اس لئے اب قیامت تک جو بندہ قرآن مجید کے سیکھنے سکھانے کو اپنا شغل و وظیفہ بنائے گا وہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص مشن کا علمبردار اور خادم ہوگا اور اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص الخاص نسبت حاصل ہوگی اس بنا پر قرآن پاک کے متعلم ومعلم کو سب سے افضل و اشرف ہونا ہی چاہئے ” {معارف القرآن ،ص:74 و 799 }

یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے سیکھنے سکھانے پر خصوصی توجہ دی اور اس کی فضیلت بیان فرمائی اس کے یاد کرنے اور یاد رکھنے پر توجہ دلائی ، ایک بار چند صحابہ صفہ میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور یوں مخاطب ہوئے : تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ صبح کو وادی بطحان یا عقیق جائے اور وہاں سے موٹی تازی خوبصورت دو اونٹنیاں لے آئے اور اس میں کسی گناہ وقطع رحمی کا مرتکب بھی نہ ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم سب یہ چاہتے ہیں آپ نے فرمایا : تمہارا ہر روز مسجد جاکر دو آیتیں سیکھ لینا دو اونٹنیوں کے حصول سے بہتر ہے اور تین آیتیں سیکھ لینا تین اونٹنیوں سے بہتر ہے اسی طرح جتنی آیتیں سیکھو گے اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔

{ صحیح مسلم و ابو داود ، بروایت عقبہ بن عامر } ۔

یہ حدیث بھی زیر بحث حدیث کی طرح قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے لیکن یہاں ایک بات یہ ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ یہ عظیم فضیلت اس وقت تک حاصل نہ ہوگی جب تک کہ قرآن کے سیکھنے سکھانے میں درجہ ذیل امور کا لحاظ نہ رکھا جائے ۔

[۱] اخلاص : یعنی قرآن مجید کا سیکھانا و سیکھنا اخلاص کے ساتھ اور اللہ تعالی کے لئے ہو ، اس کامقصد ریاء و نمود اور کوئی دنیاوی غرض نہ ہو ، اگر بدقسمتی سے کسی دنیوی غرض کے لئے قرآن سیکھنے سکھانے کو کوئی پیشہ بنائے تو بتقاضائے فرمان نبی وہ ان بدنصیبوں میں سے ہوگا جو سب سے پہلے جہنم میں جھونکے جائیں گے اور اس کا انیدھن بنیں گے اللھم احفظنا ۔۔

{ صحیح مسلم } ۔

[۲] عمل : قرآن کے نزول کا مقصد علم کے ساتھ ساتھ عمل بھی ہے لہذا جو شخص قرآن کا علم تو حاصل کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا بھی ہے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا ، اس کی مقرر کردہ حدود کا لحاظ نہیں رکھتا تو وہ شخص اس خیریت و افضلیت کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ جو شخص اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے شرعی اصطلاح میں عالم نہیں کہا جاتا او رنہ ہی اس کا علم شرعی علم کہلاتا ہے ۔

[۳] گناہوں سے پرہیز کرے : اہل علم کہتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو خلاف شرع کاموں کا ارتکاب کرتا ہے وہ جاہل ہے ،کیونکہ علم شرع اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کا سیکھنے والا خلاف شرع کاموں سے دور رہے ، لہذا جو شخص قرآن سیکھنےسکھانے کے ساتھ قرآن کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کررہا ہے تو گویا قرآن پراسکا صحیح ایمان نہیں ہے ، سچ ہے :”جو قرآن کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کررہا ہے تو گویا وہ قرآن پر ایمان نہیں لایا ”

{ مرعاۃ المفاتیح }

فوائد :

۱- قرآن اللہ تعالی کا کلام اور اس کی صفت ہے ۔

۲- قرآن کا سیکھنا سکھانا سب سے افضل عمل ہے بشرطیکہ حدود الہی کا پاس و لحاظ رکھا جائے ۔

۳- قرآن سیکھنے سکھانے میں اس کے الفاظ کی تلاوت ، تجوید اور اس کا ترجمہ و تفسیر سبھی امور داخل ہیں ۔

۴- علم عمل کا متقاضی ہے لہذا جو اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے وہ صاحب علم کہے جانے کا مستحق نہیں ہے ۔

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق