عام مقالات

ولی اور کرامت

(علامة قصیم شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله

کی کتاب شرح العقيدة الواسطية سے ماخوذ )

ولیوں کی کرامت ایک بڑا اہم مسئلہ ہے جسکے بارے میں حق وباطل کی معرفت ضروری ہے ، کیا کرامت کوئی حقیقی چیز ہے ؟ یا صرف خیالات ہیں ؟

مصنف علیہ الرحمہ [امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ]نے اس سلسلے میں اہل سنت کے عقیدہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے اہل سنت وجماعت کے عقیدہ میں ولیوں کی کرامت کی تصدیق بھی داخل ہے : اب سوال یہ ہے کہ ولی کون ہیں ؟

جس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ خود اللہ تبارک وتعالی نے ولیوں کی تعریف اپنے ان الفاظ میں کردی ہے : { أَلاَ إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ . الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ } [ سُورَةُ يُونُسَ : 62، 63]

یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پر ہیز رکھتے ہیں ۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جسکے اندر ایمان وتقوی ہوگا وہی اللہ تعالی کا ولی شمار ہوگا

واضح رہے کہ ولایت محض دعوی اور تمناسے حاصل نہیں ہوتی ، اصل ولایت تو ایمان لانا اور اللہ تبارک وتعالی کا تقوی اختیار کرنا ہے ، اسلئے ہم اگر کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو اپنے ولی ہونے کا دعوی تو کرتا ہے لیکن اللہ کا تقوی اختیار نہیں کرتا تو اسکا قول اس کے منھ پر مار دیا جائے گا ۔

البتہ جہاں تک کرامات کا تعلق ہے تو اصل میں یہ کرامت کی جمع ہے ، اور کرامت وہ خارق عادت کام ہے جسے اللہ تعالی اپنے ولی کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے ، جسکا مقصد اسکی تائید یا اسکی مدد یااسے ثابت قدم رکھنا یا دین کی مدد کرنا ہوتا ہے ۔

چنانچہ صلۃ بن اشیم رضی اللہ عنہ کا واقعہ جنکے مردہ گھوڑے کو اللہ تبارک وتعالی نے زندہ کردیا تھا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر پہنچ گئے اور جب گھر پہنچ گئے تو اپنے بیٹے سے کہا : اس گھوڑے پر سے زین اتار لو کیونکہ یہ عاریۃ لیا گیا ہے ، چنانچہ جیسے ہی اس پر سے زین اتاری گئی وہ گرا اور مرگیا، یہ اس نیک بندے کی کرامت تھی جس سے انکی مدد کی گئی ۔

اور جو کرامت دین کی مدد کیلئے ہوتی ہے اسکی مثال وہ کرامت ہے جو حضرت علاء الحضرمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آئی کہ انہوں نے سمندر کوپارکر لیا، اسی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص کے ساتھ بھی پیش آیا کہ انہوں نے دریائے دجلہ کوپا رکر لیا ، ان دونوں بزرگوں کا قصہ تاریخ میں مشہور ہے ۔

کرامت کے بارے میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ وہ خارق عادت چیز یں ہیں ، اگر خارق عادت نہیں ہے تو اسے کرامت نہیں کہا جائیگا، یہ خارق عادت چیز جسے اللہ تبارک وتعالی اپنے کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے اسمیں [ولی کی شرط اسلئے ہے کہ] جادوا اور شعبدہ بازں سے فرق کیا جائے کیونکہ یہ چیزیں بھی خارق عادت ہی ہیں لیکن اللہ کے ولیوں کے ہاتھ نہیں بلکہ اللہ کے دشمنوں کے ہاتھ پر ظاہر ہوتی ہیں اسلئے اسے کرامت نہ کہیں گے۔

اس زمانے میں ان شعبدہ بازوں سے جو اللہ کے دین سے لوگوں کو روکتے ہیں بہت سی ایسی خارق عادت چیزیں ظاہر ہوتی ہیں جسے کرامت کہا جاتا ہے ،ضروری ہے کہ ان سے دور رہا جائے اور وہ لوگ جو لوگوں کی عقل وفہم سے کھلواڑ کرتے ہیں ان سے بچا جائے۔

واضح رہے کہ کرامت کا ثبوت قرآن سے بھی ہے ، حدیث سے بھی ہے اگلے پچھلے واقعات سے بھی اسکا ثبوت ملتا ہے ۔

قرآن وسنت سے ثابت گذشتہ زمانے کی کرامت اصحاب کہف کا قصہ ہے یہ لوگ مشرکوں کے درمیان زندگی گزار رہے تھے جب وہ اللہ تعالی پر ایمان لائے اور انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ انھیں گرفتار کرلیا جائے گا تو اللہ تعالی کی طرف ہجرت کے نیت سے اس شہر سے بھاگ کھڑے ہوئے ، انکے لئے اللہ تعالی نےکسی پہاڑ میں ایک ایسا غار میں کردیا کہ جسکا رخ شمال کی طرف تھا ، ان پر سورج اس طرح داخل نہ ہوتاتھا کہ انکے جسم پر اثر انداز ہو اور ایسا بھی نہ تھا کہ وہ لوگ سورج کی روشنی سے مکمل محروم ہی رہیں ، جب سورج طلوع ہوتا تو غارکی دائیں جانب مائل ہو جاتا اور جب غروب ہوتا تھا تو بائیں جانب کتر ا جاتا تھا، اور وہ لوگ غارکی کی کشا وہ جگہ میں آرام فرماتھے ، اسطرح وہ اس غار میں تین سو نو سال تک سوئے رہے اس درمیان اللہ تعالی انھیں دائیں جانب اور بائیں جانب الٹ پلٹ رہا تھا ، گرمی میں بھی اور سردی میں بھی ، نہ ہی گرمی انہیں پریشان کرتی تھی اور نہ ہی سردی انھیں تکلیف دیتی تھی ، اس لمبی مدت میں نہ انھیں پیاس محسوس ہوئی نہ بھوک لگی اور نہ ہی وہ لوگ نید سے اکتا ئے ، یہ بلا شبہ یہ ایک بڑی کر امت ہے ، یہ لوگ اسی طرح سوتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس شہر سے شرک کو ختم کردیا اسطرح وہ لوگ اہل شہر کے شر سے محفوظ رہ گئے ۔

گذشتہ زمانے کی جو کرامتیں قرآن وسنت سے ثابت ہیں ان میں ایک حضرت مریم کا قصہ بھی ہے، چنانچہ جب دردزہ نے انھیں ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا تو وہاں اللہ تعالی نے انھیں یہ کرامت عطا فرمائی ، انھیں حکم دیا کہ وہ کھجور کے تنے کو حرکت دیں تاکہ انکے سامنے تازہ پکی ہوئی کھجور گرے ۔

انھیں کرامات میں سے ایک بزرگ کا وہ قصہ بھی ہے جسے اللہ تبارک وتعالی نے سو سال تک موت کی آغوش میں رکھ کر دو بار ہ زندہ کیا، یہ انکی کرامت تھی تاکہ انکے سامنے اللہ تعالی کی قدرت واضح ہو جائے اور انکے ایمان میں مزید پختگی آجائے ۔

اسی طرح حدیثوں میں بھی بہت ساری کرامات مذکور ہیں جنکے لئے بخاری شریف کی کتاب الانبیاء میں سے ” بنی اسرائیل کا باب ” اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب “الفرقان بیں اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان” کی طرف رجوع کریں ۔

البتہ جہاں تک واقعات سے کرامت کے ثبوت کا تعلق ہے تو وہ بالکل ظاہر ہے ہر شخص اپنے زمانے میں ان کا مشاہدہ کرکے یا صحیح خبروں سے معلوم کر سکتا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ اہل سنت وجماعت کا مسلک اولیاء کرام کی کرامات کی تصدیق ہے ۔

کرامت سے متعلق ایک اور مذہب ہے جو اہل سنت وجماعت کے مذہب کے خلاف ہے ، وہمعتزلہ اور انکے ہمنوا لوگوں کا مذہب ہے یہ لوگ کرامات کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم کرامات کو حق مان لیں تو اسطرح جاد و گرمیں اور ولی میں اور ولی میں اور نبی میں اشتباہ پیدا ہوگا کیونکہ ان میں سے ہر شخص خارق عادت امور ظاہر کرنے کا دعویدارہوگا ۔

ان لوگوں کا جواب کہ ایسا التباس واشتباہ نا ممکن ہے کیونکہ کرامت کا صدور کسی ولی کے ہاتھ پر ہو تاہے اور یہ نا ممکن ہے کہ کوئی ولی نبوت کا دعویدار ہو اور جو نبوت کا دعویدار ہو گا وہ اللہ تعالی کا ولی شمارنہ ہوگا ، معجزہ تو نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے اور جادو شعبدہ بازی اللہ کے دشمن کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے، جو اللہ تعالی کی ولایت سے بہت دور ہوتے ہیں اور وہ راپنے کاموں میں شیطان سے مدد لیتے ہیں ، اور اس مقام تک وہ حضرات ریاضت وکو شش سے پہنچتے ہیں بخلاف کرامت کے کہ وہ اللہ تبارک وتعالی کا عطیہ ہے ، کوئی ولی اپنی کوشش سے اسے حاصل نہیں کرسکتا ۔

علماء نے یہ بات بھی کہی ہے کہ ولی کی ہر کرامت اصل میں اس نبی کا ایک معجزہ ہے جس نبی کا وہ پیروکارہے کیونکہ کرامت کا ظہور اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اس بات کی شہادت ہے کہ اس ولی کا راستہ صحیح ودرست ہے ۔

اس بنیاد پر اس امت کے ولیوں سے جو کرامات بھی ظاہر ہوتی ہیں وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ ہیں ۔

اسی لئے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ انبیاء سابقین کو کوئی ایسا معجزہ نہیں ملا کہ ویسا ہی معجزہ ہمارے نبی کو نہ ملا ہو۔

اس پر یہ اعتراض کہا جاتا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ ایسا نہیں ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ میں ڈالا گیاہو اور آپ اسمیں سے زندہ باہر نکل آئے ہوں ،جیسا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا ، اسکا جواب یہ دیا گیاہے کہ ایسا حادثہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کے ساتھ پیش آیا ہے جیسا کہ مورخین نے حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق لکھا ہے ، جب اللہ تعالی نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کو اس خارق عادت امر سے نوازا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین برحق ہے ،کیونکہ آپ کی بھی تائید اس جیسے معجزے سےکی گئی جس طرح سے معجزہ سے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تائید کی گئی تھی ۔

نیز اس قاعدہ پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سمندر کو پھاڑکر [راستہ نہیں دیا گیا ] جسطرح کہ حضرت موسی علیہ السلام کے لئے سمندر نے راستہ دیاتھا۔

اسکا جواب یہ دیا جاتا ہے حضرت موسی علیہ السلام کوسمندر کے دوحصوں میں بٹنے کا جو معجزہ ملا تھا اس سے کہیں عجیب کرامت اس امت کے بعض افراد کے ساتھ پیش آئی، یعنی پانی پر چلنا جیسا کہ حضرت علاء الحضرمی رضی اللہ عنہ کے قصہ میں ہے کہ وہ لوگ پانی پر چل کر سمندر پارکئے ، اور یہ حضرت موسی علیہ السلام کے معجزہ سے زیادہ ا ہم ہے کیونکہ موسی علیہ السلام تو خشک زمین پر چل کر سمندر پارکئے تھے ۔

اور اس قاعدہ پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مردوں کو زندہ کردینے کا معجزہ جسطرح حضرت عیسی علیہ السلام کو ملاتھا اس امت کے نبی کو نہیں ملا

اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کو ایسی کرامات ملی ہیں، جیسا کہ وہ شخص[حضرت صلہ بن اشیم ] جسکا گدھا راستے میں مرگیا تھااور انہوں نے دعا کی تو اللہ تعالی نے انکے لئے گدھے کو زندہ کردیا ۔

اور اگر مسلمانوں پر حضرت عیسی علیہ السلام کے اندھے کوزندہ کرنے اور برص کے مریضکو شفا دینے کو لیکر اعتراض کیا جائے تو اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسا معجزہ ملا ہے ، چنانچہ غزوہ احد کے موقعہ پر جب حضرت ابو قتادہ کی آنکھ زخمی ہوئی اور رخسا رے پر لٹک آئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کو اپنے دست مبارک پر رکھ کر اسکی جگہ پر رکھ دیا،جس سے آنکھ درست اور پہلےسے کہیں زیادہ بہترہو گئی ، اور ظاہر ہے کہ یہ تو بہت ہی عظیم معجزہ ہے ۔

خلاصہ یہ کہ جیسی خرق عادت چیزیں [معجزات]پچھلے انبیاء علیہم السلام کو ملی تھیں اسی جیسی خرق عادت چیزیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو [ معجزات کی صورت میں ] اور آپ کی امت کو [ کرامت کی صورت میں ] ملیں، جو شخص اس بارے میں مزید معلومات چاہے وہ حافظ بن کثیر رحمہ اللہ کی تاریخ البدایہ والنہایہ کا مطالعہ کرے۔

نوٹ : کرامات سے متعلق ہم نے یہ بات کہی کہ اسکا مقصد تائید، ثابت قدم رکھنا، کسی شخص کی اعانت اور دین حق کی مدد ہوتا ہے، اسی لئے آپ لوگ دیکھیں کے کہ تابعین رحمہم اللہ سے کرامت کا ظہور صحابہ کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہوا ہے ،کیونکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اندر ثابت قدمی اور تائید ومدد کی ایسی صفات موجود تھیں کہ انھیں کرمات سے بے نیاز کرتی تھیں کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انکے درمیان موجود تھے البتہ تابعین ان امور میں ان سے کم درجے کے تھے اسلئے انکے زمانے میں انکی تایید، انھیں ثابت قدم رکھنے اور اس حق کی مدد کے لئے جس پر وہ گا مزن تھے کثرت سے کرامات کا ظہور ہوتا تھا

خارق عادت سے وہ کام مراد ہیں جو عام عادات کے خلاف ظاہر ہوں ۔

** یہ کرامات چار چیزوں پر دلالت کرتی ہیں۔

۱۔ اللہ تبارک وتعالی کی کمال قدرت کا بیان، کیوں کہ یہ خارق عادت فعل اللہ کے حکم ہیسے ظاہر ہوا ہے ۔

۲۔ نیچریوں کی تردید جویہ کہتے ہیں کہ نیچرہی سب کچھ کرتا ہے ،کیونکہ اگر ہر چیز نیچرہی سے ظہور میں آتی ہے تو اسمیں تبدیلی واقع نہ ہوتی ، جب کہ ہم دیکھئے ہیں کہ اس عادت وطبیعت میں تغیر پیدا ہوا ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کاخالق اور اسمیں تصرف کرتے والا کوئی اور ہے ۔

۳۔ کرامت اس امت کے نبی کا ایک معجزہ ہے جیسا کہ قریب ہی اسکا ذکر ہوا ہے ۔

۴۔ کرامت میں اس ولی کی ثابت قدمی اور اسکے قابل احترام ہونے کا بیان ہے ۔

مصنف علیہ الرحمہ مزید لکھتے ہیں کہ کرامت علم وکشف کی صورت میں ہوتی ہے یا قدرت وتاثیر کی صورت میں،

اسکا مطلب یہ ہے کہ کرامت کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک قسم کا تعلق علم وکشف سے ہے اور دوسری قسم کا تعلق قدرت وتاثیر سے ہے

علم یہ ہے کہ کسی انسان [ولی] کو ایسا علم حاصل ہو جائے جو عام لوگوں کو حاصل نہیں ہے، کشف یہ کہ کسی انسان [ولی] کے سامنے ایسے امور ظاہر ومنکشف ہو جائیں جو عام لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں ہوتے۔

علم کی مثال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیاوہ واقعہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے انھیں اطلاع دے دی کہ انکی بیوی کے پیٹ میں جوحمل ہے وہ مادہ ہے [الاصابہ۴|۲۶۱] کشف کی مثال حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا ہوا درج ذیل واقعہ ہے ، چنانچہ ایک بار وہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھےکہ لوگوں نے سنا : آپ کہہ رہے ہیں ، “یا ساریۃ الجبل” اے ساریہ پہاڑ میں پناہ لو ، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، اور جب آپ سے اسکی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : میرے سامنے ایسا ظاہر ہوا کہ ساریہ بن زنیم جو آپ کے ایک کما نڈر تھے ۔ دشمنوں کے نرغہ میں ہیں اور انکا رخ پہاڑ کی طرف ہے تو میں نے کہا اے ساریہ پہاڑ پہاڑ ، ساریہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، پہاڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسکی پناہ میں پہنچ گئے [ البدایہ ۷| ۱۳۱]

یہ ایک کشف تھا کیونکہ ایسا واقعہ کہیں بہت دور پیش آیا تھا، جسکا انکشاف حضرت عمر پر ہوگیا ۔

قدرت وتاثیر کی مثال حضرت مریم کا واقعہ ہے کہ انھوں نے کھجور کے تنے کو جھنجھوڑا اور اس سے تازہ پکی کھجوریں گرنے لگیں ۔

اسی طرح اس شخص کا واقعہ جسے علم کتاب حاصل تھا جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ میں سبا کے تخت شاہی کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں گا ۔

کرامات پچھلی امتوں میں بھی پائی گئی ہیں، جیسا کہ غار والوں کا قصہ مشہور ہے کہ انکی غار کا منہ بند ہو گیا تھا [صحیح البخاری : کتاب الانبیاء باب حدیث الغار ، مسلم کتاب الذکر والدعاء ] اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر بھی پائی گی ہیں جیسا کہ حضرت اسید بن حضیر کا قصہ، [ بخاری کتاب فضائل القران ، مسلم کتاب صلاۃ المسافرین ] بعض صحابہ کے سامنے کھانے کی چیز کا زیادہ ہو جانا [البخاری کتاب مواقیت الصلاۃ ]، اور تابعین کے زمانے میں بھی پائی گئی ہیں، جیسا کہ صلہ بن اشیم کا واقعہ جنکے گھوڑ ے کو اللہ تبارک وتعالی نے زندہ کردیا ،

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کتاب الفرقان میں لکھتے ہیں کہ کرامت کا باب بڑا وسیع ہے ، اولیاء کی کرامات سے متعلق یہ موضوع کسی اور جگہ بیان ہوا ہے ، اور جو کرامات ہم نے اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے وہ بہت زیادہ ہیں ۔

اور کرامات کا یہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گا جسکی دلیل عقلی بھی ہے اور نقلی بھی ہے ۔

نقلی دلیل : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے واقعہ سے متعلق اطلاع دی ہے کہ دجال ایک نوجوان کو بلائے گا ۔ وہ نوجوان آکر اس سے کہے گا تو وہی مسیح الدجال ہے جس سے متعلق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے ، چنانچہ دجال اسے قتل کرکے دو حصے میں بانٹ دے گا ایک کو دائیں طرف پتھر پھیکنے کی دوری تک پھیک دے گا اور دوسرے حصے کو بائیں جانب پھیک دے گا پھر انکے درمیان ٹہلتا ہوا اسے آواز دیگا تو وہ شخص ہنستا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہوگا ،پھر اس سے کہے گا کہ وہ دجال کی الوہیت کا اقرار کرے تو وہ شخص کہے گا تیرے دجال ہونے کا جس قدر یقین مجھے اب ہوا ہے اس سے پہلے کبھی بھی نہ تھا ، اب دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے قتل نہ کر سکے گا ۔

چنانچہ اس نوجوان کو دجال کا قتل نہ کر پانا یہ اسکی کھلی ہوئی کرامت ہوگی ۔

البتہ جہاں تک عقلی دلیل کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ کہا جائے گا کہ جب کرامت کا سبب یعنی ولایت کا وجود قیامت تک رہے گا تو کرامت بھی قیامت تک موجود رہے گی ۔

ختم شدہ

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق